بجلی شعبہ میں اصلاحات بہتری کا ذریعہ: وزیر توانائی، عالمی و اسلامی بنک میں اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے عالمی اور اسلامی بنک کے عہدیداروں نے ملاقات کی۔ وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت ورلڈ بنک کے نائب صدر برائے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان ریجن، مسٹر عثمان ڈیون کر رہے تھے۔ اس موقع پر اسلامی ترقیاتی بنک (IsDB) کے نائب صدر (آپریشنز) ڈاکٹر رامی احمد نے بھی وفاقی وزیر سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی شعبے کو پائیدار، مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران ورلڈ بنک کے وفد نے قابلِ اعتماد اور کم لاگت توانائی نظام کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ اسلامی ترقیاتی بنک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد نے پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کے امکانات اجاگر کئے وفاقی وزیر نے بجلی کے شعبے میں ہدفی اصلاحات کے ذریعے بہتری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے تمام شعبوں میں ہمہ گیر اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیداواری و ترسیلی منصوبہ بندی کو مربوط انداز میں تشکیل دیا گیا ہے اور انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) سے تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری بجلی گھروں کو نکال دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں صارفین پر پڑنے والے تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر کے بوجھ سے بچاؤ ممکن ہوا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ تقسیم کار کمپنیوں میں پائی جانے والی نااہلیوں میں کمی کے نتیجے میں 197 ارب روپے کی بہتری حاصل کی گئی ہے، جبکہ گردشی قرضہ 780 ارب روپے تک کم کیا جا چکا ہے۔ درآمدی کوئلے پر چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی تھر کوئلے پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر عثمان ڈیون اور ڈاکٹر رامی احمد نے توانائی شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومتِ پاکستان اور وزارتِ توانائی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے بروقت اور عملی اصلاحات کو بجلی کے شعبے میں کارکردگی، مالی استحکام اور خدمات کی فراہمی میں بہتری کا ذریعہ قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بنک کے
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔