گل پلازہ سے ملنے والی ایک اور لاش کی شناخت ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
فوٹو: اے پی پی
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سے ملنے والی ایک اور لاش کی شناخت ہوگئی، لاش کی شناخت تنویر احمد خان ولد ابوالکلام کے نام سے ہوئی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ تنویر احمد کورنگی نمبر 4 کا رہائشی تھا، متوفی تنویر احمد گل پلازہ میں سیلز مین تھا، متوفی کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں بھی موجود تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متوفی کی شناخت اس کے پاس سے ملنے والے شناختی کارڈ سے ہوئی ہے، اب تک 7 افراد کی لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے۔
خیال رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، 71 تاحال لاپتہ ہیں، رات سے اب تک 20 لاشیں نکالی گئی ہیں، آگ سے متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ گرگیا، آگ پر 33 گھنٹوں بعد قابو پایا گيا، کولنگ کا عمل ابھی جاری ہے۔
ڈاکٹر عابد نے کہا کہ مربوط، منظم، مکمل طور پر تکنیکی بنیادوں پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے،
آگ بجھنے کا سنتے ہی اپنے پیاروں کی تلاش کے منتظر خستہ حال عمارت کے اندر دوڑ پڑے، زندگی کی تلاش کی امید ابھی باقی لیکن ساتھ ہی ملبہ ہٹانے کا کام بھی اب تیز ہونے لگا، لاپتا 29 افراد کی موبائل لوکیشن گل پلازہ کے اطراف کی آرہی ہے، لاپتا افراد کے لواحقین کو سول اسپتال میں اپنا ڈیٹا اور ڈی این اے نمونےجمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔
آتشزدگی کے بعد اسپتال لائے گئے زخمی تمام 30 افراد کو اسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا، عمارت میں آگ لگنے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔
ویڈیو میں آگ لگنے کا وقت رات 10 بج کر 22 منٹ ہے، آگ کے باعث گل پلازا کے ساتھ والی عمارت بھی متاثر ہوگئی، پلرز ٹیڑھے ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازہ افراد کی کی شناخت
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔