لاہور میں ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبے کا ایک بڑا عالمی ایونٹ گلوبل سی آئی ایس او سمٹ منعقد کیا گیا جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے سائبر سیکیورٹی اور آئی ٹی کے ماہرین نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی ملاقات، جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی پاکستانی کوششوں کو سراہا

گلوبل سی آئی ایس او سمٹ میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل مستقبل سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

سمٹ کا مقصد پاکستان کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانا اور عالمی تجربات کو مقامی سطح پر متعارف کرانا ہے۔

اس موقعے پر گلوبل سی آئی ایس او فورم کے صدر ڈاکٹر اردال اوزکایا، پی ڈبلیو سی پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عبدالقادر، سعودی عرب سے وی سی ای او کے بانی عدنان رفیق احمد، دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ہیڈ آف انفارمیشن سیکیورٹی اینڈ کمپلائنس فیصل خان نے خطاب کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ گلوبل سی آئی ایس او سمٹ صرف ایوارڈز کی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم ہے جہاں ملکی اور غیر ملکی ماہرین سائبر سیکیورٹی کے چیلنجز اور حل پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کنگ عبداللہ یونیورسٹی میں ’ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ اکیڈمک سمٹ 2025‘ کا انعقاد

دنیا کے 50 سے زائد ممالک سے وابستہ اس عالمی فورم کے صدر ڈاکٹر اردال اوزکایا خصوصی طور پر امریکا سے پاکستان آئے اور لاہور میں سمٹ کی قیادت کی۔

اس سمٹ میں 500 سے زائد ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی لیڈرز نے شرکت کی۔

ایونٹ میں 100 سے زائد اوورسیز پاکستانی ماہرین اور اعلیٰ عہدیداران بھی شریک ہوئے جنہوں نے ملکی قیادت کے ساتھ مل کر آئی ٹی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

سمٹ میں پاکستان اور بیرون ملک سے کئی معروف ماہرین اور کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، کینیڈا، قطر اور دیگر ممالک کے نمائندے بھی ایونٹ کا حصہ تھے۔

مزید پڑھیے: برطانیہ میں 180 سالہ پرانی ٹیکنالوجی اب بھی زیر استعمال

منتظمین کے مطابق گلوبل سی آئی ایس او سمٹ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط ٹیکنالوجی حب بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی اور نوجوانوں، اداروں اور انڈسٹری کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ دیکھیے ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹیکنالوجی سی آئی ایس او سمٹ گلوبل ٹیک لاہور میں ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی ایونٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی سی آئی ایس او سمٹ گلوبل ٹیک گلوبل سی آئی ایس او سمٹ سائبر سیکیورٹی لاہور میں

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا