خلائی ماہرین کے مطابق مشہور اور رنگین رِنگ نیبیولا میں ایک نیا معمہ سامنے آیا ہے۔

سائنسدانوں نے نیبیولا میں آئرن کے ایٹمز کی ستون جیسی ایک بڑی بار دریافت کی ہے جو زمین سے دیکھنے پر رِنگ کی شکل میں نظر آتی ہے، مگر دراصل یہ شاید ایک سلنڈر کی مانند ہے جسے ہم سیدھے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ڈھانچہ بہت بڑا ہے، اس کی لمبائی پلوٹو کے مدار کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ اور اس میں تقریباً مارس کے برابر لوہا موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا پھیلتی ہوئی کائنات دوبارہ سکڑنے لگی ہے؟ نئی سائنسی پیشرفت نے سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا

یہ حیران کن دریافت ویلیم ہرسل ٹیلی سکوپ کے ذریعے کی گئی، جو اسپین کے جزیرے لا پالمہ میں واقع ہے، اور اس میں ویو نامی نئے آلے کا استعمال بھی کیا گیا۔

رِنگ نیبیولا، ملکی وے کہکشاں کے ہمارے پڑوس میں واقع ایک شاندار خلائی ڈھانچہ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق، یہ بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے، اور اس میں چند بھاری عناصر بھی موجود ہیں۔

یہ نیبیولا پہلی بار فرانسیسی ماہر فلکیات چارلس میسیئر نے 1779 میں دریافت کی تھی اور اس کے بعد سے اسے وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ ملکی وے میں تقریباً 3,000 نیبیولا دریافت ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سائنسدانوں نے زمین سے ٹکرانے والے کہکشانی اجسام کے مقام شناخت کرلیے

ایسے نیبیولا کی تحقیق سے سائنسدان یہ جان سکتے ہیں کہ ستارے کی زندگی کے کس مرحلے میں اندرونی جوہری عمل سے پیدا شدہ عناصر خلا میں خارج ہوتے ہیں اور اگلی نسل کے ستاروں اور سیاروں کی تشکیل میں کیسے شامل ہوتے ہیں۔

سائنسدان ویسن کا کہنا ہے کہ ہم مزید ڈیٹا حاصل کرنے کے منتظر ہیں تاکہ اس نئے اسرار کو حل کیا جا سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ یہ لوہے کی بار کہاں سے آئی ہے۔

رِنگ نیبیولا ایک ‘پلینیٹری نیبیولا’ کے طور پر جانا جاتا ہے، جو کسی سورج نما ستارے کے ختم ہونے کے بعد بچا ہوا گیس اور دھول کا روشن حصہ ہے۔ جب ستارہ ایندھن ختم کر دیتا ہے تو یہ اپنے بیرونی حصے خارج کر دیتا ہے اور اندرونی حصہ ایک وائیٹ ڈوارف کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سائنسدانوں کو 10 ہزار سالہ قدیم چیونگم  کا سراغ مل گیا، اسے چبانے والا کون تھا؟

سائنسدان جانیت ڈریو نے کہا کہ ہمیں خاص طور پر یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آیا آئرن کے ساتھ کوئی اور کیمیائی عنصر بھی موجود ہے، کیونکہ یہ ہمیں درست ماڈل سمجھنے میں مدد دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خلا سائنسدان کہکشان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خلا کہکشان اور اس

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت