کروڑوں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانے کا فیصلہ؛ مہم فروری میں شروع ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے قومی سطح پر نئی پولیو مہم کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق یہ مہم 2 فروری سے 8 فروری 2026 تک جاری رہے گی۔ اس دوران ملک کے 159 اضلاع میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنا اور پاکستان کو پولیو فری ممالک کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔
نیشنل ای او سی کے مطابق اس قومی مہم کے دوران پیدائش سے لے کر 5سال تک کی عمر کے تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 4 لاکھ سے زائد مرد و خواتین پولیو ورکرز، سپروائزرز اور سیکورٹی اہلکار فیلڈ میں فرائض انجام دیں گے، جو گھر گھر جا کر بچوں تک رسائی حاصل کریں گے۔
حکام کے مطابق پولیو مہم کی کامیابی کا انحصار والدین کے تعاون پر ہے۔ اسی لیے والدین سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔
نیشنل ای او سی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ صرف پولیو سے بچاؤ کے قطرے ہی نہیں بلکہ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس بھی نہایت اہم ہے۔ والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیدائش سے لے کر 15 ماہ تک کے بچوں کے تمام حفاظتی ٹیکے مقررہ وقت پر مکمل کروائیں تاکہ بچوں کو مختلف مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پولیو مہم سے متعلق مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے شہری 1166 پر کال کر سکتے ہیں، جبکہ واٹس ایپ کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کے لیے مخصوص نمبر بھی فراہم کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت معلومات اور عوامی تعاون سے ہی پولیو کے خلاف جنگ کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کو کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔