data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلیا میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی،جس کے بعد برطانیہ میں اسی نوعیت کے اقدام کا امکان ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی ہاؤس آف لورڈز رواں ہفتے چائلڈ ویلفیئر اینڈ اسکولز بل میں ترمیم پر ووٹ دے گا، تاکہ اس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی پابندی شامل کی جا سکے۔ ادارہ چائلڈ ودآؤٹ اسمارٹ فونز نے اس ہفتے ایک ای میل مہم شروع کی، جس میں ایک لاکھ سے زیادہ پیغامات برطانیہ کے مقامی قانون سازوں کو بھیجے گئے۔ اس میں حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے عمر کے لحاظ سے مناسب حدود مقرر کرے۔ادارے کی شریک بانی ڈییزی گرینوِل نے بتایاکہ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ جتنا زیادہ وقت بچے اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، اتنے ہی زیادہ منفی اثرات ان کی ذہنی صحت پر پڑتے ہیں۔ اگر یہ پلیٹ فارمز دستیاب نہ ہوں، تو نیٹ ورک کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں اور نوجوان ایک دوسرے اور حقیقی دنیا سے دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اس خیال کی حمایت کی اور کہاکہ ہمیں بچوں کو سوشل میڈیا سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آسٹریلیا کی پابندی پر غور کر رہے ہیں۔فرانس بھی اگلے ملک کے طور پر پابندی کے نفاذ کے لیے مضبوط امیدوار ہے۔ وہاں 2بل زیر غور ہیں، جن میں سے ایک کو صدر ماکروں کی حمایت حاصل ہے، جس کا مقصد 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانا ہے۔واضح رہے کہ یہ پابندی 10 دسمبر سے آسٹریلیا میں نافذ العمل ہے،جس کے تحت سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام نافذ کرنے پر مجبور کیا گیا ہے تاکہ 16 سال سے کم عمر افراد اکاؤنٹ نہ بنا سکیں ۔ عدم تعمیل کی صورت میں کمپنیوں کو 3کروڑ 20لاکھ امریکی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ادھر دنیا بھر کی حکومتیں اسی طرح کے قوانین بنانے پر غور کر رہی ہیں،جن میںبرطانیہ، فرانس، ڈنمارک، اسپین، جرمنی، اٹلی اور یونان شامل ہیں۔ امریکا اس رجحان میں پیچھے ہے، جہاں قومی سطح پر پابندی کا امکان کم ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر پابندی بچوں کے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟