برطانیہ میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلیا میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی،جس کے بعد برطانیہ میں اسی نوعیت کے اقدام کا امکان ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی ہاؤس آف لورڈز رواں ہفتے چائلڈ ویلفیئر اینڈ اسکولز بل میں ترمیم پر ووٹ دے گا، تاکہ اس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی پابندی شامل کی جا سکے۔ ادارہ چائلڈ ودآؤٹ اسمارٹ فونز نے اس ہفتے ایک ای میل مہم شروع کی، جس میں ایک لاکھ سے زیادہ پیغامات برطانیہ کے مقامی قانون سازوں کو بھیجے گئے۔ اس میں حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے عمر کے لحاظ سے مناسب حدود مقرر کرے۔ادارے کی شریک بانی ڈییزی گرینوِل نے بتایاکہ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ جتنا زیادہ وقت بچے اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، اتنے ہی زیادہ منفی اثرات ان کی ذہنی صحت پر پڑتے ہیں۔ اگر یہ پلیٹ فارمز دستیاب نہ ہوں، تو نیٹ ورک کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں اور نوجوان ایک دوسرے اور حقیقی دنیا سے دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اس خیال کی حمایت کی اور کہاکہ ہمیں بچوں کو سوشل میڈیا سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آسٹریلیا کی پابندی پر غور کر رہے ہیں۔فرانس بھی اگلے ملک کے طور پر پابندی کے نفاذ کے لیے مضبوط امیدوار ہے۔ وہاں 2بل زیر غور ہیں، جن میں سے ایک کو صدر ماکروں کی حمایت حاصل ہے، جس کا مقصد 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانا ہے۔واضح رہے کہ یہ پابندی 10 دسمبر سے آسٹریلیا میں نافذ العمل ہے،جس کے تحت سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام نافذ کرنے پر مجبور کیا گیا ہے تاکہ 16 سال سے کم عمر افراد اکاؤنٹ نہ بنا سکیں ۔ عدم تعمیل کی صورت میں کمپنیوں کو 3کروڑ 20لاکھ امریکی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ادھر دنیا بھر کی حکومتیں اسی طرح کے قوانین بنانے پر غور کر رہی ہیں،جن میںبرطانیہ، فرانس، ڈنمارک، اسپین، جرمنی، اٹلی اور یونان شامل ہیں۔ امریکا اس رجحان میں پیچھے ہے، جہاں قومی سطح پر پابندی کا امکان کم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر پابندی بچوں کے کے لیے
پڑھیں:
میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت
یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔
اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔
Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.
As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.
Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026
میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔
سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔
ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔
مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔
نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔
اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس