چنگ چی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست پر تمام فریقین سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-02-20
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ/ آئینی بینچ میںشہر کے مرکزی شاہراہوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت ،سرکاری حکام نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی ۔سندھ ہائیکورٹ میں شہر کے مرکزی شاہراہوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جہاں اسسٹنٹ کمشنر و محکمہ ٹرانسپورٹ کا حکام عدالت میں پیش ہوئے سرکاری حکام نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت طلب کیا درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے دو نوٹیفیکیشن پہلے ہی جاری کیے تھے، لیکن اب ایک تیسرا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا، عدالت کاکہنا تھا کہ جواب آنے دیں، اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا، درخواست گزار کاکہنا تھا کہ رمضان آنے والا ہے، اپریل سے پابندی کا سامنا ہے، رکشہ ڈرائیور معاشی تنگی کا شکار ہوگئے، عدالت کاکہنا تھا کہ یہ کوئی قانونی دلیل نہیں ہے،جواب آنے کے بعد آپ دلائل دیجئے گا،عدالت نے درخواست کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا ،درخواست میں سندھ حکومت، کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ و دیگر فریق ہیں جس میں کہاگیا کہ سندھ حکومت نے کمشنر کراچی کے ذریعے ابتدائی طور پر 12 روٹس پر چنگچی رکشوں پر پابندی عائد کی، بعد ازاں نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے 30 روٹس کو بند کردیا گیا،پابندی عائد کرنے سے قبل متاثرہ فریق سے مشاورت نہیں کی گئی،شہر بھر میں 60 ہزار چنگچی رکشے چلتے ہیں، پابندی سے چنگچی رکشہ چلانے والے غریب شہری متاثر ہورہے ہیں۔، قوانین میں ترمیم کے بعد پابندی کا اختیار کمشنر کراچی کے بجائے بلدیاتی نمائندوں کا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رکشوں پر پابندی تھا کہ
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔