اسلام آباد ہائیکورٹ: درخواست گزار کی اپنی ہی درخواست سے لاعلمی، جسٹس محسن برہم
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسلام آباد کے لیبر افسر کی تعیناتی کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ اس موقع پر درخواست گزار کی اپنی ہی دائر درخواست سے لاعلمی پر جسٹس محسن اختر کیانی برہم ہوگئے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اس کو جانتے ہیں جس کے خلاف درخواست دائر کی ہے؟ جسٹس محسن اخترکیانی نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ کس کے کہنے پر درخواست دائر کی ہے؟ کتنے پیسے لیے؟
درخواست گزار کے وکیل نے بولنے کی کوشش کی، جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل کو خاموش کرا دیا۔ جسٹس محس اختر کیانی نے کہا کہ آپ کے بقول یہ ڈی آئی خان سے آکر کاروبار کر رہے ہیں، مجھے درخواست گزار سے سوال کرنے دیں۔
انھوں نے درخواست گزار سے ایک مرتبہ پھر سوال کیا کہ کس کے کہنے پر درخواست دی ہے؟ درخواست گزار نے کہا میں نے خود درخواست دائر کی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا گردن ہلائیں گے یا جیل بھیج دوں، شرم نہیں آئی، کتنے پیسے لیے ہیں؟ انھوں نے کہا جس کے کہنے پر درخواست دی اس کا نام یا محکمہ بتا دیں، عدالت میں جھوٹ بولنے کا مطلب سمجھ آتا ہے؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ کو ڈیرہ اسماعیل خان میں مسیج آیا اور درخواست فائل کر دی؟ جسٹس محسن اختر کیانی کی ہدایت پر درخواست گزار کو کورٹ روم میں بٹھالیا گیا۔ تمام کیسز ختم ہونے کے بعد درخواست گزار کے وکیل روسٹرم پر آگئے۔
وکیل نے درخواست گزار کو جانے کی اجازت دینے کی استدعا کی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا یہ تو آزاد شہری ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا سر میں بھی کووارنٹو کی درخواست کی وجہ سے مسنگ ہوا ہوں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کووارنٹو کے لیے بڑے لوگ مسنگ ہوئے ہیں، نظام کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا درخواست گزار پر درخواست
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔