سندھ ہائیکورٹ: کراچی میں چنگچی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست پر فریقین سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست پر آئندہ سماعت پر تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو شہر کے مرکزی شاہراہوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ اسسٹنٹ کمشنر و محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران پیش ہوئے۔ سرکاری حکام نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی۔
درخواستگزار کے وکیل صلاح الدین گنڈاپور نے موقف دیا کہ حکومت نے 2 نوٹیفیکیشن پہلے ہی جاری کئے تھے۔ اب ایک تیسرا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جواب آنے دیں، اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ رمضان آنے والا ہے، اپریل سے پابندی کا سامنا ہے۔ رکشہ ڈرائیور معاشی تنگی کا شکار ہوگئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی قانونی دلیل نہیں ہے، جواب آنے کے بعد آپ دلائل دیجئے گا۔
عدالت نے سماعت 4 فروری تک ملتوی کردی، عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ درخواست میں سندھ حکومت، کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ و دیگر فریق ہیں۔
سندھ حکومت نے کمشنر کراچی کے ذریعے ابتدائی طور پر 12 روٹس پر چنگچی رکشوں پر پابندی عائد کی تھی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے 30 روٹس کو بند کردیا گیا۔ شہر بھر میں 60 ہزار چنگچی رکشے چلتے ہیں۔ قوانین میں ترمیم کے بعد پابندی کا اختیار کمشنر کراچی کے بجائے بلدیاتی نمائندوں کا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چنگچی رکشوں پر پابندی عدالت نے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔