سابق خاتون اول سے بیٹی کی ملاقات کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: لاہور ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے والدہ سے ملاقات کی اجازت کے لیے دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں دائر کی جانی چاہیے تھی۔ تاہم رجسٹرار آفس کے اعتراض کے باوجود جسٹس فاروق حیدر آج درخواست گزار مبشرہ مانیکا کی درخواست پر بطور اعتراض سماعت کریں گے۔
وفاقی حکومت کا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ
درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل قوانین کے تحت انہیں اپنی والدہ سے ملاقات کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ جیل شیڈول کے مطابق ہر منگل کو قیدیوں کی اہلِ خانہ سے ملاقات کا دن مقرر ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو والدہ سے ملاقات کرانے کا حکم دیا جائے۔ درخواست گزار کے مطابق بشریٰ بی بی اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور مبشرہ خاور ان کی حقیقی بیٹی ہیں۔
محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی: پی ڈی ایم اے
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بارہا کوششوں کے باوجود سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے، جس سے درخواست گزار کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ عدالت کی جانب سے رجسٹرار آفس کے اعتراضات اور درخواست پر آئندہ کارروائی کا فیصلہ سماعت کے بعد متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور لاہور درخواست گزار سے ملاقات
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔