سانحہ گل پلازہ: آتشزدگی کے باوجود مسجد میں رکھے قرآن پاک محفوظ رہے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی: (دنیا نیوز) شہر میں ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے شہر قائد سوگ میں مبتلا ہے۔
اس تباہی کے منظر میں حیرت انگیز منظر بھی دیکھنے کو ملا، آگ بجھنے کے بعد سرچ آپریشن کا عمل جاری ہے، اس دوران ریسکیو اہلکار پلازے کی مسجد میں داخل ہوئے تو دنگ رہ گئے۔
مسجد میں قرآن پاک معجزانہ طور پر بالکل محفوظ تھے، آگ سے مسجد بھی محفوظ رہی، ریسکیو والوں نے قرآن پاک محفوظ مقام پر منتقل کر دیئے ہیں۔
ریسکیو اہلکار نے اس موقع پر ویڈیو بنائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ کے پہلے فلور پر قائم مسجد کلیئر کر دی گئی، پہلے فلور پر مسجد میں کوئی شخص نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اس سانحے میں اب تک 26 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 83 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔