کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پا سکنا ایک افسوسناک سوالیہ نشان ہے: مفتی تقی عثمانی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
ممتاز عالم مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پا سکنا ایک افسوسناک سوالیہ نشان ہے، بروقت مدد کیوں نہیں پہنچ سکی، اس کی بے لاگ تحقیق ضروری ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گل پلازا میں آگ لگنے کا حادثہ قوم کے لیے انتہائی المناک اور شرمناک سانحہ ہے۔
مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ چند گھنٹوں میں کتنی جانیں بے چارگی کا شکار ہو کر رخصت ہوگئیں، کتنے متوسط درجے کے تاجروں کا اربوں کا نقصان انہیں قلاش بنا گیا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ اب تک پیاروں کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرین نے ریسکیو ورکرز کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی بھی شکایت کی۔
انہوں نے کہا کہ حفاظتی انتظامات کو تیز اور مضبوط بنانا حکومت کا فرض ہے، جن لوگوں نے آخر کار انسانی جانیں بچانے کی خدمت انجام دیں وہ قابل ستائش ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ شہداء کو اعلیٰ درجات اور آفت زدگان کو نعم البدل عطا فرمائیں آمین۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔