سانحہ گل پلازہ: ریسکیو آپریشن سست روی کا شکار، جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ کے چوتھے روز بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں نے ریسکیو کی رفتار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آپریشن تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سانحے میں اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 83 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ریسکیو آپریشن اور متاثرین کے مطالباتریسکیو اہلکار جلی ہوئی عمارت کے بیشتر حصوں میں داخل ہوچکے ہیں اور ملبہ ہٹانے کے ساتھ لاشیں نکالنے کا عمل جاری ہے۔ تاہم لاپتا افراد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے پیاروں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اہل خانہ نے ریسکیو ورکرز پر تعاون نہ کرنے اور صرف عمارت پر پانی مارنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
لاپتا دکاندار انس کے والد عمران کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکار اندر جانے سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ اہل خانہ نے خود اندر جانے کی کوشش کی تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انس کی والدہ اور اہلیہ پہلے دن سے پلازہ کے باہر موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انس کو تلاش کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔
تاجر برادری کا احتجاج اور الٹی میٹمتاجر رہنما جمیل پراچہ نے ریسکیو آپریشن کی سست روی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک لاپتا افراد کو تلاش نہ کیا گیا تو تاجر خود عمارت میں داخل ہوں گے۔
جاں بحق اور لاپتا افراد کی صورتحالڈپٹی کمشنر ساؤتھ آفس میں لاپتا افراد کی فہرست آویزاں کردی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق 29 لاپتا افراد کی موبائل لوکیشن گل پلازہ اور اطراف کے علاقوں میں آخری بار موصول ہوئی تھی۔ جاں بحق 18 افراد کی شناخت ہوچکی ہے، جبکہ باقی لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔
ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کارروائیسول اسپتال کراچی میں اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے نمونے لیے جاچکے ہیں جبکہ 48 خاندانوں نے اپنے نمونے جمع کرادیے ہیں۔
ڈی آئی جی اسد رضا کے مطابق نمونے سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی بھجوائے گئے ہیں، جہاں آئندہ 3 روز تک کراس میچنگ کا عمل جاری رہے گا۔ ناقابل شناخت لاشیں ایدھی سردخانے منتقل کردی گئی ہیں۔
چھت سے گاڑیاں اتار لی گئیںریسکیو آپریشن کے دوران گل پلازہ کی چھت سے 7 گاڑیاں اتار لی گئیں، جن میں سے 2 گاڑیاں محفوظ حالت میں مالکان کے حوالے کردی گئیں۔ ایک تاجر عامر کے مطابق حیران کن طور پر ان کی دونوں گاڑیاں محفوظ رہیں، تاہم ان کی دکان پر کام کرنے والے 2 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
سانحہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافاتمتاثرہ دکانداروں نے انکشاف کیا ہے کہ گل پلازہ میں کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں، جن میں سے رات 10 بجے کے بعد صرف 2 دروازے کھلے رکھے جاتے تھے۔ سانحے کے وقت 24 دروازے بند تھے اور کوئی ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا۔
آگ لگنے کے وقت بجلی بند تھی، عمارت دھوئیں سے بھر چکی تھی اور اندھیرے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی۔ دھوئیں کے باعث کئی افراد بے ہوش ہوکر گر پڑے، جبکہ متعدد افراد کو دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکالا۔
تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاسگل پلازہ آتشزدگی سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے، جس میں واقعے سے متعلق جمع کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔
سانحہ گل پلازہ نے نہ صرف درجنوں خاندانوں کو سوگوار کر دیا ہے بلکہ شہر میں حفاظتی انتظامات اور ایمرجنسی رسپانس پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریسکیو آپریشن لاپتا افراد گل پلازہ افراد کی
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔