کراچی: گل پلازہ میں آگ سے مسجد اور قرآن پاک محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی کے گل پلازہ میں آگ سے مسجد کو نقصان نہیں پہنچا، قرآن پاک بھی محفوظ ملے۔
ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ کے پہلے فلور پر قائم مسجد کلیئر کردی گئی، پہلے فلور پر مسجد میں کوئی شخص نہیں ملا۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے گُل پلازہ میں آتشزدگی سے اموات اور مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں فائر فائٹنگ، سرچنگ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
واضح رہے کہ شہر قائد میں ہفتہ اتوار کی درمیانی شب ایم اے جناح روڈ پر واقع مارکیٹ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی ہے جبکہ71 تاحال لاپتا ہیں اور 18 افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کے مطابق سول اسپتال میں اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے سیمپل لیے گئے ہیں، 48 فیملیز نے اپنے ڈی این اے سیمپل بھی جمع کرادیے ہیں۔
ڈی آئی جی اسد رضا نے بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی بھیجے جارہے ہیں، اگلے تین دنوں تک کراس میچنگ جاری رہے گی۔
دوسری جانب سندھ فرانزک لیب کو 6 لاشوں کےنمونےموصول ہو گئے، ناقابل شناخت 6 لاشیں ایدھی سردخانےسہراب گوٹھ منتقل کر دی گئیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازہ میں ڈی این اے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔