کراچی میں فائر سیفٹی آڈٹ میں سنگین خامیاں سامنے آ گئیں، 77 فیصد عمارتوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی نے 2023 میں شہر کی بلند عمارتوں اور کاروباری مراکز کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا تھا، جس کی رپورٹ یکم جنوری 2024 کو کمشنر کراچی کو بھیج دی گئی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ شارع فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ قائدین اور طارق روڈ سمیت مجموعی طور پر 235 سے زائد عمارتوں میں فائر سیفٹی کے سنگین انتظامات موجود نہیں تھے۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پر معائنہ کی گئی 45 عمارتوں میں سے 29 غیر تسلی بخش قرار پائیں جبکہ 77 فیصد عمارتوں میں فائر فائٹنگ کا سامان موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں مالکان اور مکینوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فائر سیفٹی کے اقدامات یقینی بنائیں اور متعلقہ اداروں کو بھی غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
محکمہ فائربریگیڈ نے دو سال قبل کی گئی فائر سیفٹی آڈٹ میں بھی اکثر بلند عمارتوں اور تجارتی مراکز میں اسٹینڈرڈ فائر سیفٹی نہ ہونے کا انکشاف کیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی ایسے سانحات رونما ہونے کے خدشات موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمارتوں میں فائر سیفٹی کی گئی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔