گھر میں بھاری مالیت کا سونا چوری ہونے کا ڈراپ سین؛ بڑی بھابی ہی ماسٹر مائنڈ نکلی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
لاہور:گھر میں 17 لاکھ روپے مالیت کا سونا چوری ہونے کے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا، جس میں بڑی بھابی ہی واردات کی ماسٹر مائنڈ نکلی۔
ترجمان پولیس کے مطابق تھانہ ویمن ریس کورس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمہ کو گرفتار کر لیا۔
ایس ایچ او ویمن آمنہ جمیل کے مطابق ملزمہ نے گھر کے دیگر افراد کی غیر موجودگی میں گھر سے سونا غائب کیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمہ نے سونا چوری کرنے کے بعد اسے فروخت کر دیا اور حاصل ہونے والی رقم اپنی سہیلی کے گھر بطور امانت رکھوا دی۔
دوران تفتیش ملزمہ نے اعتراف کیا کہ اس نے پیسوں اور سونے کی لالچ میں چوری کی واردات کا ڈرامہ رچایا۔ ایس ایچ او ویمن آمنہ جمیل کے مطابق ملزمہ اسفارا سے 7 لاکھ روپے نقدی اور ایک سونے کی انگوٹھی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔