افغان تاجک سرحد پر خطرے کی گھنٹی، چین نے اپنے شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
افغانستان اور تاجکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی اور کابل میں حالیہ دھماکے کے بعد چین نے اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
چینی حکام نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افغانستان–تاجکستان سرحدی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صورتحال کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔
چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تاجکستان میں مقیم یا سرحدی علاقوں کے قریب موجود چینی شہری بروقت اور مناسب انداز میں ان علاقوں کو چھوڑ دیں۔
سفارتخانے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھیں اور ہر ممکن احتیاطی تدابیر یقینی بنائیں۔
یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب تاجک بارڈر فورسز نے اتوار کے روز افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے چار دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاجک حکام کے مطابق یہ واقعہ سرحدی علاقے میں پیش آیا جہاں حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر گزشتہ روز کابل میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک جبکہ 13 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے خطے میں چینی شہریوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق افغانستان سے دہشت گردوں کی سرحد پار سرگرمیاں نہ صرف تاجکستان بلکہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے باعث علاقائی سلامتی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے شہریوں
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔