افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر بسانے کا فیصلہ فاش غلطی تھی،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر بسانے کا فیصلہ فاش غلطی تھی،وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر بسانے کا فیصلہ فاش غلطی۔ ملک میں دہشت گردی بڑھنے کی وجہ یہی ہے۔ سب جانتے ہیں سوات سے سیکڑوں دہشتگردوں کو کس نے رہا کیا۔ دشمنوں کے ساتھ آواز ملاکر پاکستان کیخلاف زہر اگلا جاتا ہے۔
قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکا سے خطاب وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دیں، خیبرپختونخوا پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک صوبہ ہے، قومی سلامتی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 1018 میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کردیا گیا تھا، دہشتگردی کیخلاف آپریشن اجتماعی فیصلہ تھا، کیا وجہ ہے کہ دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، سوات سے سیکڑوں دہشتگردوں کو کس نے رہا کیا؟ افغانستان سے ہزاروں لوگوں کو لاکر پاکستان میں کس نے بسایا؟ افغانستان سے لوگوں کو لاکر بسانا فاش غلطی تھی، خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہوچکا۔ بہت اجلاس ہوئے لیکن افغان طالبان نے کوئی بات نہیں مانی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب ترقی کرتا ہے اور باقی صوبے نہیں کرتے تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں، خیبرپختونخوا میں جو ترقی ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آتی، وفاق اور کے پی میں سرد جنگ کی بات حقیقت نہیں۔ معاشی ترقی کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کیخلاف جارحیت کی، پاکستان نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی، پاکستان نے بھارت کے 7 جہاز گرائے، افواج پاکستان نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو قیامت تک یاد رکھے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ عوام اور سکیورٹی فورسز نے ملک کے امن اور سلامتی کیلئے تاریخی کردار ادا کیا، داخلی وخارجی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع حکمتِ عملی اپنائی جارہی ہے، حکومت سکیورٹی کے تمام اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ کام کررہی ہے، ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسوئٹزرلینڈ میں “گرل ڈنر” ٹرینڈ، سرد کھانے کی مقبولیت میں اضافہ سی ڈی اے کا بحریہ ٹاؤن اسلام آباد سے ایکسٹینشن چارجز کی مد میں کروڑوں روپے کی ریکوری کا فیصلہ وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کیلیے سوئٹزرلینڈ روانہ ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل؛ سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو بڑی کامیابی، مراکش کے بادشاہ نے بانی رکنیت قبول کرلی گرین لینڈ تنازع پر ٹیرف کی دھمکی: یورپی ممالک نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول واپس لینے کا نوٹیفکیشن چیلنجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان سے فاش غلطی کا فیصلہ کو لاکر
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔