دہشتگردی میں کمی آئی، مگر خطرہ ابھی موجود ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ورکشاپ میں خیبر پختونخوا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے قربانی دی، جس کی بدولت 2018 میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے اور دشمن سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کی سالمیت کے خلاف کوششیں کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اے پی ایس کے سانحے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ گُڈ اور بیڈ طالبان میں تمیز ختم کی جائے اور دہشتگردوں کے خلاف متحدہ کارروائیاں کی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ افواج اور پولیس سمیت ایک لاکھ پاکستانی شہید ہوئے، لیکن 2018 کے بعد دہشتگردی دوبارہ سر اٹھانے لگی۔
شہباز شریف نے وضاحت کی کہ سوات سے دہشتگردوں کو رہا کیا گیا اور افغانستان سے کچھ افراد کو پاکستان میں منتقل کیا گیا، جس کی وجہ سے دہشتگردی نے پھر زور پکڑا۔
وزیراعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آجکل سوشل میڈیا پر بعض افراد شہدا کے خلاف بات کرتے ہیں اور دشمن پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر روز کہیں نہ کہیں دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں عوامی اور سرکاری اداروں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگردی کے کے خلاف
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔