فائل فوٹو

سی او او ریسکیو ڈاکٹر عابد جلال الدین نے کہا ہے کہ سانحے کا شکار گل پلازا کی دونوں منزلوں سے اب تک کوئی لاش نہیں ملی، اسٹاف کی سیفٹی اور عمارت کی حالت کو دیکھتے ہوئے سرچنگ کا کام جاری ہے۔

اپنے بیان میں سی او او ریسکیو نے کہا کہ گل پلازا میں لگنے والی آگ تیسرے درجے کی تھی، ریسکیو کا رسپانس بروقت تھا اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت گل پلازا میں سرچنگ چل رہی ہے، دوسری اور تیسری منزل پر سرچنگ کا عمل جاری ہے۔ گل پلازا کے تیسرے فلور سے ابھی تک کوئی لاش نہیں ملی۔

کراچی: گل پلازہ میں آگ سے مسجد اور قرآن پاک محفوظ

کراچی کے گل پلازہ میں آگ سے مسجد کو نقصان نہیں پہنچا، قرآن پاک بھی محفوظ ملے۔

ڈاکٹر عابد جلال الدین نے کہا کہ کسی بھی عمارت میں فائر الارم اور فائر ایگزیکٹ ہونا بہت ضروری ہے، عمارتوں میں اسپرنکل سسٹم ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے سانحہ گل پلازا میں اموات سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک 20 لاشیں سول اسپتال لائی گئی ہیں۔

پولیس سرجن نے کہا کہ 14 لاشوں کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں جن میں سے 7 لاشوں کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا تھا کہ ساتویں لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے ممکن ہوئی، متوفین کی شناخت کے لیے 48 اہل خانہ کے نمونے مل چکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام نمونے سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں، جائے وقوعہ سے کچھ انسانی اعضاء بھی لائے گئے جن پر کام جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ گل پلازا جاری ہے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا