Express News:
2026-07-24@08:32:22 GMT

اردو ہے جس کا نام

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

غلط العام کی بات ہے تو اسے کچھ اور بڑھاتے ہیں پہلے اردو زبان کے بارے میں کچھ۔معروف معنی میں یہ کوئی زبان نہیں بلکہ زبانوں کا ایک مرکب سنگم اور مجمع البحرین ہے۔ایسا کوئی لفظ اس میں نہیں جسے اردو کا اپنا لفظ کہا جاسکے۔دوسرے یہ کہ یہ کسی بھی قوم یا نسل کی زبان نہیں کیونکہ یہ ہر قوم و نسل کی زبان ہے۔جن لوگوں کو اردو کے’’اہل زبان‘‘ کہا جاتا ہے وہ بھی چند نسلیں قبل اور زبان کے تھے۔چنانچہ ان میں نسلی لحاظ سے ہندی ایرانی،عربی،ترکی زبانوں کے لوگ بھی ہیں اور مقامی پنجابی، کشمیری، گوجری،سندھی، بلوچی، پشتو، بنگالی، گجراتی اور ساؤتھ کی بے شمار زبانوں والے ہیں اور ان زبانوں کے الفاظ بھی۔یہاں تک کہ اس کا نام بھی اس کا اپنا نہیں ہے ایک زمانے میں اس کے لیے ’’ریختہ‘‘ کا نام بھی وضع کیا گیا تھا لیکن وہ نہیں چلا۔ کیونکہ ’’ریختہ‘‘ بھی تو فارسی نژاد لفظ ہے چلیے اس لفظ’’اردو‘‘ کا تعاقب کرتے ہیں کہ یہ ہمیں کہاں پہنچاتا ہے۔

عام طور پر اس لفظ’’اردو‘‘ کو ترکی زبان کا لفظ کہا جاتا ہے لیکن یہ بھی درست نہیں۔بنیادی طور پر دجلہ وفرات کی ’’اشوری‘‘ سلطنت قائم تھی تو اس میں بڑے بڑے فاتحین اور نامور بادشاہ گزرے تھے جیسے ’’اشور  حدین‘‘ اشور بنی پال اور حمورابی جسے دنیا کا پہلا مقنن یا قانون ساز بادشاہ کہا جاتا ہے یہاں تک کہ تورات میں جو دس قوانین حضرت موسیٰ سے منسوب کیے گئے ہیں یاد رہے کہ موجودہ تورات قطعی اسرائیلیوں کی تصنیف اور جھوٹ کا پلندہ ہے، اصل تورات کا اس میں کہیں شائبہ بھی نہیں کیونکہ اصل تورات کم ازکم چھ بار دنیا سے مکمل طور پر غائب ہوچکی ہے اور پھر کئی صدیوں بعد کچھ لوگوں کی یاد داشتوں یا کہانیوں سے مرتب ہوئی ہے۔

اندازہ اس سے لگائیں کہ حضرت موسیٰؑ سے منسوب ان کی خاص کتاب’’استستا‘‘ میں ان کی وفات،تجہیز وتکفین اور بعد کی ساٹھ باتیں درج ہیں۔یہ دس قوانین یا ٹن کمانڈمنٹ اسی کتاب میں ہیں۔ حمورابی کا زمانہ دو ہزار قبل مسیح کا بتایا جاتا ہے۔خیر ہماری اصل بحث لفظ ’’اردو‘‘ سے ہے یہ اشوری بادشاہ جس کا دارالحکومت ’’نینویٰ‘‘ تھا ، یہ لوگ بڑے ظالم خونریز اور جنگ پسند تھے اور ہر طرف انھوں نے اپنی فتوحات کے جھنڈے لہرائے تھے اور مال غنیمت بھی خوب اکٹھا کیا جو ہر دور کی فتوحات کا خاصا بلکہ مقصد ہوتا ہے باقی صرف بہانے ہوتے ہیں کیونکہ حکمران بھی دراصل بڑے پیمانے پر اور ترقی دادہ’’لٹیرا‘‘ ہی ہوتا ہے۔

وہ اشوری حکمران جب دوسری اقوام کے لوگوں کو غلام بنا لاتے تھے تو ان کو اپنے شہر’’نینوا‘‘ میں نہیں رکھتے تھے بلکہ نینوا کے قریب انھوں نے ان کے لیے ایک کیمپ قائم کیا تھا جس کا نام ’’اُریدو‘‘ تھا۔اُر بمعنی ’’شہر‘‘ اور ’’یدو‘‘ بمعنی غلام۔غلاموں کا شہر یا بستی۔لفظ’’اُر‘‘ بمعنی شہر یا بستی سامی زبانوں اور اقوام میں مروج تھا۔آریائی زبانوں میں یہ’’اُر‘‘ تھا جو ’’ہار‘‘ سے بنا تھا جیسے قندہار،ننگرہار پوٹھو ہار چپرہار وغیرہ پھر یہ ’’آر‘‘ ہوگیا۔لفظ ایک ہی ہے تلفظ لہجوں کا فرق ہے۔

جیسے ہمارے ہاں اب بھی کچھ لوگ شہرکراچی، شہر لاہور، شہر پشاور کہتے ہیں اور کچھ کراچی شہر،لاہور شہر، پشاور شہر کہتے ہیں، دوسری بات یہ کہ اشقاق اللغہ یا آٹمالوجی میں سالم لفظ شمار ہوتے ہیں اضافتیں(زیر زبر پیش) شمار نہیں ہوتے۔لفظ ’’شہر‘‘ بھی اصل میں شاہ ہر‘‘ ’’شہ ہر‘‘ یعنی بڑی بستی ہے دجلہ و فرات میں یہ لفظ’’اُر‘‘ اور بھی کئی شہروں کا لاحقہ تھا جیسے اریک،ارویک،اُر ۔اُرطو ’’اُریحا‘‘ وغیرہ لفظ عراق بھی ’’اُریک‘‘سے بنا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ پھر ان لوگوں سے دوسرے بیگاروں اور کاموں کے ساتھ ساتھ لشکروں کا کام بھی لیا جانے لگا۔فتح ہوجاتی تو وہ بادشاہ کی ہوتی اور اگر مرجاتے تو پرائے تھے دشمن کا مال تھا خرچ ہوگیا خس کم جہاں پاک۔بعد میں آہستہ آہستہ ان کو اُجرت اور تھوڑا بہت مال غنیمت میں سے حصہ بھی دیا جانے لگا اور یوں فوجیوں کا نام ہی’’اردو‘‘ پڑگیا پھر یہ لفظ ترکی فارسی اور دوسری قرب وجوار کی زبانوں میں آیا تو آہستہ آہستہ’’اردو‘‘بن گیا اور فوجوں سے مختص ہوگیا چنانچہ ترکی وغیرہ میں شاہی گارڈ کیلیے ’’اردوئے معلی‘‘ کا لفظ بن گیا اور ایران وغیرہ میں فوجی ہیڈکوارٹر یا مرکز یا تربیت گاہ کو’’قول اردو‘‘ بھی کہا جانے لگا۔لیکن اس لفظ کو زبان کی حیثیت صرف ہندوستان میں ملی۔کیونکہ دوسرے ممالک میں تو اکثر ایک ہی ’’زبان‘‘ ہوتی تھی جو فوج میں بھی بولی جاتی تھی اور فوج میں زبان کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔لیکن ہندوستان تو قوموں، نسلوں، ادیان و مذاہب کی طرح ’’زبانوں‘‘ کا بھی ایک بہت بڑا مرکب ہے اس لیے افواج میں بھانت بھانت کے لوگ یکجا ہوجاتے تھے بڑی حد تک تو فارسی سے کام چلایا جاتا لیکن ہند کی ہر قوم ونسل کے لوگوں کو تو فارسی نہیں آتی تھی اور ایک جگہ رہتے رہتے بات چیت تو کرنا پڑتی ہے اس لیے یوں ایک مجموعی مرکب زبان بنتی گئی اور مروج ہوتی گئی۔

جو ہرزبان والوں کی واحد ذریعہ اظہار بن گئی اور بنتی گئی، وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ذخیرہ الفاظ بھی بڑھتا گیا اور دائرہ بھی۔یوں اردو زبان وجود میں آگئی جو سب کی ہے اور کسی کی بھی نہیں یا اس اس لیے کہ کسی کی بھی نہیں کہ یہ سب کی ہے۔اس کی حیثیت ایک ایسی مہربان اور شفیق عورت یا ماں کی ہے  جس کی اپنی اولاد تو نہیں ہے لیکن دوسروں کی اولاد کو پالتی پوستی ہیء ان سے وہی محبت کرتی ہے جیسی اپنی اولاد سے کی جاتی ہے یوں کہیے کہ اس نے اپنے’’بانجھ پن‘‘ کو محرومی نہیں بنایا بلکہ محبت اور شفقت بناکر بانٹنا شروع کردیا ہے، ساتھ ہی اتنی دیانت دار بھی ہے کہ دوسروں کی اولاد پر قبضہ نہیں کرتی بلکہ ہمیشہ انھیں ان کے اپنے نام اور شناخت کے ساتھ رکھتی ہے۔ہر ہر لفظ کیلیے صاف صاف بتاتی ہے کہ اس کی ’’اصلی ماں‘‘ کون تھی اور میں نے اسے کونسی ماں سے لے کر پالا ہے یا پال رہی ہوں چنانچہ ہر ہر زبان سے لیے ہوئے الفاظ اس میں صاف صاف اپنی ناموں کا پتہ دیتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ حکومتوں نے اپنی سیاستوں کیلیے اسے دوسری زبانوں اور زبان والوں کے لیے ایک گونہ ناپسندیدہ بنادیا ہے ورنہ ہے سب کی ماں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی زبان کے ساتھ جاتا ہے ا ہستہ کے لوگ کا نام

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف