بلوچستان کابینہ نے تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کردیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے مسئلے کو طویل عرصے سے ریاستِ پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ، صوبے میں بعض عناصر اور جماعتیں اس حساس معاملے پر محض سیاست کرتی رہیں مگر مسئلے کے مستقل اور قانونی حل کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے 22ویں اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں صوبے کے انتظامی، قانونی، سماجی، تعلیمی اور ترقیاتی امور سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے اور کئی کلیدی قوانین اور رولز کی منظوری دی گئی۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت، کابینہ، اراکینِ اسمبلی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک جامع اور مؤثر قانون بلوچستان اسمبلی سے منظور کرایا گیا۔

ہم نے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے جس سے ریاست پاکستان پر لگنے والے جبری گمشدگی کے الزامات اور اس بنیاد پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوگا،یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور اس ضمن میں ایک لیگل فریم ورک موجود ہوگا، اگر کوئی فرد دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کر کے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔

اس رجحان کے تدارک کے لیے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن ایکٹ (ڈبل ون ٹیٹرا ای) منظور کیا گیا ہے اور صوبائی کابینہ نے اس کے رولز 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت قائم کردہ مخصوص مراکز میں مشتبہ افراد سے مجاز پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیش ہوگی، ساتھ ہی ان کی کونسلنگ بھی کی جائے گی تاکہ انتہا پسندی، گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ کا تدارک ممکن بنایا جا سکے۔

زیرِ تفتیش افراد کے اہلِ خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، ملاقات کی اجازت ہوگی، طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کسی فرد کو ان مراکز سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا جس بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تفتیش کرنی ہوئی وہ اسی مراکز میں کرے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایک ایسے مسئلے کو حل کیا جس پر برسوں سیاست کی جاتی رہی، اب وہ لوگ جو اس معاملے پر سیاست چمکاتے تھے ان کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو رہی ہے۔

اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے بلوچستان وٹنیس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی منظوری دی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں گواہان کے تحفظ کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث دہشت گردی اور سنگین جرائم میں سزاؤں کی شرح ایک سے دو فیصد تھی ، نئی اصلاحات کے تحت "فیس لیس” کورٹس قائم کی گئی ہیں جہاں گواہان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رہے گی اور جج کے سوا کسی پر شناخت واضح نہیں ہوگی جس سے انصاف کی فراہمی مؤثر اور بروقت ہو گی اور سزاؤں کی شرح میں پچاس تا ساٹھ فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے۔

اجلاس میں محکمہ خزانہ میں آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور دیگر محکموں میں بھی مرحلہ وار ڈیجیٹلائزڈ بھرتیوں پر اتفاق کیا گیا۔

صوبائی کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے اور اس کے ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کرنے کی منظوری دی۔ صوبائی کابینہ نے دو نئے ڈویژن پشین اور کوہِ سلیمان کے قیام، زیارت کو انتظامی طور پر لورالائی کا حصہ بنانے، ضلع پشین میں میونسپل کمیٹی کربلا کے قیام، لاء افسران کی ایوالوشن پالیسی، محکمہ اقلیتی امور میں گرانٹ اِن ایڈ ترمیمی پالیسی، چائلڈ لیبر کے خاتمے، ہائیر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو لازمی سروس قرار دینے اور کنٹریکٹ اساتذہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کے فیصلے بھی کیے۔

وزیر اعلیٰ نے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو حال ہی میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق کا ٹاسک دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور اس عمل کا آغاز نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی سے کیا جائے۔

اجلاس میں قومی نصاب کو تعلیمی سال27-2026 سے صوبائی نصاب کا حصہ بنانے، چیف منسٹر اکیڈمک ایکسیلینس پروگرام کے تحت مڈل، ہائی و ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں ریاضی، سائنس اور انگریزی کے اساتذہ کی ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

صوبائی کابینہ نے سماجی شعبے میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے بلوچستان تحفظ و فروغِ تولیدی صحت حقوق بل 2026 کی منظوری بھی دی، اس قانون سازی کا مقصد صوبے میں ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کو مؤثر اور قابلِ رسائی بنانا اور تولیدی صحت سے متعلق بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

صوبائی کابینہ نے سلیم میڈیکل کمپلیکس سے امداد چوک اور ٹیکسی اسٹینڈ سے لیاقت اسکوائر تک فوڈ اسٹریٹ قائم کرنے کے منصوبے کا جائزہ لینے کیلئے سیکرٹریز سطح کی کمیٹی قائم کردی جو منصوبے کے قابل عمل ہونے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ کے تمام فیصلوں کو گڈ گورننس کی عملی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر قانون سازی اور بروقت عملدرآمد کے ذریعے ہی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صوبائی کابینہ نے وزیر اعلی کی منظوری نے کہا کہ کیا گیا کے لیے اور اس

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت