کینسر کے مریضوں کے لیے ریڈیوتھراپی سہولت میں اضافہ، کرن ہسپتال کراچی نے دوسری ہیلسیون لیناک (Halcyon LINAC) مشین کا افتتاح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی(ویب ڈیسک) کراچی انسٹیٹیوٹ آف ریڈیوتھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (KIRAN)، جو پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (PAEC) کے زیرِ انتظام ملک کا سب سے بڑا سرکاری شعبے کا کینسر ہسپتال ہے، نے جدید ترین دوسرےہیلسیون لینیئر ایکسلریٹر کا افتتاح کر دیا ہے، جس سے کینسر کے مریضوں کے لیے جدید ریڈیوتھراپی سہولت میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس اضافہ کے ساتھ کرن ہسپتال اس وقت چار لینیئر ایکسلریٹر آپریٹ کر رہا ہے جن میں دو ہیلسیون سسٹم ہیں۔
جدید Halcyon مشین آئی ایم آر ٹی( IMRT) اور وی ایم اے ٹی (VMAT) تکنیکوں کے ذریعے کینسر کا انتہائی درست علاج فراہم کرتی ہے جس سے علاج کی درستگی اور مریض کی دیکھ بھال بہتر ہوتی ہے۔
کرن ہسپتال اس وقت روزانہ تقریباً 250 کینسر مریضوں کو ریڈیوتھراپی فراہم کرتا ہے، جو ملک میں کسی بھی کینسر ہسپتال کے لیے مریضوں کی سب سے زیادہ یومیہ تعداد ہے۔دوسری ہیلسیون لینیئر ایکسلریٹر کےافتتاح کے بعد روزانہ علاج کی صلاحیت بڑھ کر تقریباً 400 مریض یومیہ تک پہنچ جائے گی، جس سے کینسر کے مریضوں کا ریڈیوتھراپی کے لیے انتظار کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
دوسری ہیلسیون مشین کی شمولیت ،کرن ہسپتال کےکراچی میں ریڈیو تھراپی کے سب سے بڑے مرکز ہونے کے کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے اور کرن ہسپتال کے مزید خاندانوں کے لیے کینسر کے علاج کے لیے جدید علاج تک رسائی بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ ہسپتال، کمیونٹی ادارے اور ٹیکنالوجی پارٹنرز مل کر کیسے کام کریں جس سے جدید کینسر کیئر زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کے لیے، ان کی مالی حیثیت سے قطع نظر، قابلِ حصول ہو سکے۔
یہ اہم اضافہ کرن پیشنٹس ویلفیئر سوسائٹی (KPWS) اور اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن (SPD) کی فراخدلانہ معاونت سے ممکن ہوا ہے جس سے تمام مستحق کینسر مریضوں کو اس مشین پر مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔
ہیلسیون سسٹم کو جدید امیج گائیڈنس (Image guidance) کے ذریعے انتہائی درست ریڈیوتھراپی کو علاج کے ہر سیشن میں کےفراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس سے مریض کی پوزیشن ہر بار یکساں رکھنے اور تمام ٹیومر سائٹس پر درست ڈلیوری میں مدد ملتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایک کمپیکٹ اور مریض دوست (Patient-centred) ورک فلو کے تحت ہر قسم کے ٹیومرز کے علاج کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ کلینیکل ٹیموں کے لیے سیشنز کو مؤثر اور کم وقت میں مکمل رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
مریضوں کے آرام کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس میں ایک ایسا کاؤچ (Couch) نصب ہے جو اوپر نیچے ہو سکتا ہے تاکہ مریض کو آسانی سے درست پوزیشن میں رکھا جا سکے، جبکہ سیٹ اَپ کے دوران مشین نسبتاً کم شور کرتی ہے۔ کاؤچ پر نصب کیمرہ اور اِنٹرکام کے ذریعے مریض اور تھیراپسٹ کے درمیان ہر وقت رابطہ بحال رہتا ہے۔
حفاظتی فیچرز میں کولژن ڈیٹیکشن (Collision detection)، چھ نکاتی حفاظتی طریقۂ کار (Six-point safety approach) اور روزانہ کی کارکردگی کی جانچ شامل ہے، جو تقریباً پانچ منٹ میں مکمل ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ مشین میں نئی اپ گریڈز مریضوں کی درست پوزیشننگ اور ورک فلو کو مزید ہموار بنانے میں معاون ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرن ہسپتال کینسر کے کرتی ہے کے لیے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔