کراچی میں آگ پر قابو نہ پانا افسوسناک، گل پلازہ سانحہ کی شفاف تحقیق ضروری، مفتی تقی عثمانی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی: ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے گل پلازہ میں آگ کے المناک واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں آگ پر بروقت قابو نہ پانا ایک شرمناک سوالیہ نشان ہے۔
اپنے بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ گل پلازہ واقعے میں بروقت مدد کیوں نہیں پہنچ سکی، اس کی بے لاگ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چند گھنٹوں میں کتنی جانیں بے چارگی کا شکار ہو کر رخصت ہوگئیں اور کتنے تاجروں کا اربوں روپے کا نقصان ہوا، یہ قوم کے لیے انتہائی المناک اور شرمناک سانحہ ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے مزید کہا کہ حفاظتی انتظامات کو مضبوط اور فعال بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور جن لوگوں نے انسانی جانیں بچانے میں خدمات انجام دیں وہ قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللّٰہ تعالیٰ شہدا کو اعلیٰ درجات عطا فرمائیں اور آفت زدگان کو نعم البدل دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مفتی تقی عثمانی
پڑھیں:
بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔
رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔