کراچی میں آگ پر قابو نہ پانا افسوسناک، گل پلازہ سانحہ کی شفاف تحقیق ضروری، مفتی تقی عثمانی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی: ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے گل پلازہ میں آگ کے المناک واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں آگ پر بروقت قابو نہ پانا ایک شرمناک سوالیہ نشان ہے۔
اپنے بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ گل پلازہ واقعے میں بروقت مدد کیوں نہیں پہنچ سکی، اس کی بے لاگ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چند گھنٹوں میں کتنی جانیں بے چارگی کا شکار ہو کر رخصت ہوگئیں اور کتنے تاجروں کا اربوں روپے کا نقصان ہوا، یہ قوم کے لیے انتہائی المناک اور شرمناک سانحہ ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے مزید کہا کہ حفاظتی انتظامات کو مضبوط اور فعال بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور جن لوگوں نے انسانی جانیں بچانے میں خدمات انجام دیں وہ قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللّٰہ تعالیٰ شہدا کو اعلیٰ درجات عطا فرمائیں اور آفت زدگان کو نعم البدل دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مفتی تقی عثمانی
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔