فلسطین میں امن کے معاملے پر پاکستان عالمی سطح پر مضبوط آواز بن سکتا ہے، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے مجوزہ امن بورڈ میں پاکستان کو شامل کیے جانے کی پیشکش ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے، جو نہ صرف پاکستان کے عالمی کردار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر آواز بننے کا ایک تاریخی موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ پیس بورڈ میں شرکت کی دعوت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر غزہ کے مستقبل سے متعلق کوئی بامقصد اور جامع حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے تو پاکستان اس میں مثبت، متوازن اور مؤثر کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ دو ریاستی حل وہ نکتہ ہے جس پر عالمی برادری کی اکثریت متفق نظر آتی ہے اور پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ آزادی، خودمختاری اور بنیادی حقوق کے لیے مضبوط مؤقف اپنانا چاہیے۔ پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی۔
وزیر دفاع نے اعتماد کا اظہار کیا کہ وزیراعظم پاکستان عالمی فورمز پر فلسطین کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے اور غزہ میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار کسی بھی صورت جانبدار نہیں بلکہ انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی ہوگا۔
غزہ میں ممکنہ فوجی کردار سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر کسی بھی حتمی فیصلے پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات پر تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جاتا ہے۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جس کے ساتھ تعلقات مثالی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے عزائم کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں ۔ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے ایران کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس کے برعکس انہوں نے اسرائیل کو خطے کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ قرار دیا۔
پاک سعودی دفاعی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کسی بھی دفاعی معاہدے میں تیسرے ملک کی شمولیت دونوں ممالک کی باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی۔ ترکیہ سمیت دیگر اسلامی ممالک بھی ایسے اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں ، امت مسلمہ کو اجتماعی دفاع کے لیے ایک وسیع اور مربوط فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل وزیر دفاع کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔