ایس ای سی پی نے لسٹڈ کمپنیوں کیلئے سرمایہ بڑھانے کے قوانین آسان کردئیے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سٹی42: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے لسٹڈ کمپنیوں کے لیے سرمایہ بڑھانے کے قوانین میں آسانیاں متعارف کروا دی ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو سرمایہ حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کم ہوں گی جبکہ سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے معلومات فراہم کرنے کا نظام برقرار رہے گا۔
اس سے قبل رائٹس ایشو کے ذریعے سرمایہ بڑھانے میں مشکلات اس وقت پیدا ہوتی تھیں جب کسی کمپنی پر قرض یا واجب الادا رقم ہوتی تھی، کیونکہ اس صورت میں رائٹس ایشو پر پابندی عائد تھی۔ اس پابندی کے باعث مالی مشکلات میں مبتلا کمپنیوں کے لیے سرمایہ بڑھانا مشکل ہو جاتا تھا۔
کابل: چینی ریسٹورنٹ میں دھماکہ،7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی
اب ایس ای سی پی نے قانون میں ترمیم کی ہے کہ اگر کمپنی متعلقہ ادارے سے این او سی حاصل کر لے تو رائٹس آفر میں "سی اے بی بی رپورٹ" کی شرط نہیں ہوگی۔ تاہم کمپنیوں کو رائٹس آفر میں قرض یا واجب الادا رقم کی مکمل معلومات سرمایہ کاروں کو فراہم کرنا ہوں گی، تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم کمپنیوں کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کریں گی۔ ترمیم سے قبل ایس ای سی پی نے مارکیٹ کے مختلف اداروں سے رائے بھی لی تھی، جس کا مقصد مارکیٹ میں اعتماد اور شفافیت کو مضبوط کرنا تھا۔
رشتے کے تنازع پر 4افراد کو قتل کرنیوالے مجرم کی پھانسی کیخلاف اپیل خارج
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 ایس ای سی پی
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔