خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم ڈھکوسلا ثابت ہوا ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہ بلدیاتی نظام بنا نہ پولیس سسٹم بنا ہے،
ہمیں بلدیاتی انتخابات کا طے شدہ درست نظام بنانا ہوگا۔
خواجہ آصف کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے شور شرابہ کیا جس پر خواجہ آصف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپنی پارٹی کو سنبھالیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمہارا لیڈر کہتا تھا رلاؤں گا بتاؤ آج کون رورہا ہے، تم روتے ہی رہو گے
کراچی لاہور سمیت ہر جگہ بلدیاتی نظام لانا ہوگا، تمام صوبوں کو گلی محلے میں نمائندگی دینا ہوگی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جب تک گلی محلے میں عوامی نمائندگی نہیں ہوگی وزارت دفاع کے فائر بریگیڈ آکر آگ پر قابو پائیں گے، جب بھی امر آتے ہیں وہ مضبوط بلدیاتی نظام لاتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم سیاسی حکومتیں حیلے بہانوں سے بلدیاتی نظام سے بھاگتی ہیں
میرے پاس اسلام آباد کون آسکے گا، بلدیاتی نظام کے نمائندوں کو ہر کوئی گلی محلے میں پکڑ سکے گا، اگلی آئینی ترمیم میں ایک قوم ایک نصاب اور بلدیاتی نظام لائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلدیاتی نظام نے کہا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔