کوئی بھی حکومت بروقت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں: الیکشن کمشن
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
لاہور، اسلام آباد (نیوز رپورٹر، وقائع نگار) الیکشن کمشن نے کہا ہے کہ کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ الیکشن کمشن نے بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کیلئے قانون سازی کی سفارش کر دی۔ ترجمان الیکشن کمشن کے مطابق لوکل گورنمنٹ نظام ملکی جمہوری اداروں کا ایک اہم ستون ہے، جو مقامی سطح پر عوام کو سہولیات فراہم کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ الیکشن کمشن نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو ایک قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو سفارش کی ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 ء کے سیکشن 219 میں ترمیم کی جائے۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے یا ان کی تحلیل کی صورت میں اسی وقت نافذ لوکل گورنمنٹ قوانین کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ ترجمان الیکشن کمشن نے کہا کہ یہ سفارشات اس لئے بھیجی گئی ہیں کیونکہ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی، جس کے باعث مقامی سطح پر جمہوری عمل متاثر ہوتا ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ الیکشن کمشن نے واضح کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صرف الیکشن کمشن کی نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشترکہ آئینی ذمہ داری ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے، اس لئے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کے تسلسل اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے واضح اور مؤثر قانونی فریم ورک بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات الیکشن کمشن نے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔