ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بگ بیش کے کامیاب ترین بولر کی پاکستانی ٹیم میں شمولیت مشکوک
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
بگ بیش لیگ کے رواں سیزن کے کامیاب ترین بولر حارث رؤف کی پاکستانی ٹیم میں شمولیت مشکوک ہوگئی۔
میڈیا ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے فاسٹ بولر حارث رؤف کو اسکواڈ سے باہر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں حارث رؤف کی مایوس کن کارکردگی کے بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے بغیر کوئی وکٹ حاصل کیے 50 رنز دے دیے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حارث رؤف حال ہی میں بگ بیش لیگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے 10 میچز میں 17.
High-quality bowling all season long sees Haris Rauf and Gurinder Sandhu finish level with the most wickets for #BBL15 and share the BKT Golden Arm! ????@BKTtires #GoldenCap pic.twitter.com/w20c0Enhng
— KFC Big Bash League (@BBL) January 19, 2026اس کے باوجود انہیں پاکستان کی جانب سے آئی سی سی کو بھیجی گئی ابتدائی 15 رکنی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے اسکواڈ کے اعلان کی آخری تاریخ 31 جنوری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔