ٹی 20 ورلڈ کپ: حارث رؤف کو 15 رکنی اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے فاسٹ بولر حارث رؤف کو پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کی وجہ بھی سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن ایشیا کپ کے فائنل کے بعد سے حارث رؤف کی ٹیم میں شمولیت کے حق میں نہیں ہیں۔ ایشیا کپ کے بعد حارث رؤف نے پاکستان کی جانب سے کوئی ٹی 20 انٹرنیشنل میچ بھی نہیں کھیلا، جس کی وجہ سے ان کی سلیکشن پر سوالات اٹھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حارث رؤف اس وقت آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ کھیل رہے ہیں، جبکہ ٹیم مینجمنٹ مستقبل کے بڑے ایونٹ کے لیے ایسے کھلاڑیوں کو ترجیح دینا چاہتی ہے جو مسلسل قومی ٹیم کے ساتھ دستیاب اور ٹیم کمبی نیشن کا حصہ ہوں۔
واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے حتمی اسکواڈ کے اعلان سے قبل ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کے درمیان مشاورت جاری ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں حارث رؤف کی شمولیت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔