پنجاب میں اب جعلی مقدمات دائر نہیں ہوں گے۔۔۔! عدالتی منصوبے پر عمل درآمد شروع
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پنجاب میں اب جعلی مقدمات دائر نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے عدالتی منصوبے پر عمل شروع کردیا گیا ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت لاہور ہائیکورٹ اور پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ میں بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی درخواستیں اور پٹیشنز دائر کی جا سکیں گی۔اس ضمن میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے سے قبل بائیو میٹرک تصدیق کو لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت درخواست گزار، مدعا علیہان اور دیگر تمام فریقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہوگی تاکہ جعلی اور بوگس مقدمات کا راستہ روکا جا سکے۔عدالتی نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضمانتی بانڈ جمع کرانے والوں اور عدالت میں بیانات دینے والوں پر بھی بائیو میٹرک تصدیق لاگو کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد نقالی کی روک تھام اور عدالتی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔یاد رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کی نقول صوبہ بھر کے سیشن ججز سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بائیو میٹرک تصدیق
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔