میٹرک بورڈ کراچی کے زیر اہتمام ’ہفتہ طلبہ‘ کا آغاز آج سے ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-02-3
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے ریسرچ سیکشن کے تحت سالانہ ’ہفتہ طلبہ 2026ء‘ کا باقاعدہ آغاز آج منگل 20 جنوری سے ہو رہا ہے۔ ان مقابلوں میں کراچی بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے۔ بورڈ حکام کے مطابق ہفتہ طلبہ کی افتتاحی تقریب بورڈ کے کانفرنس ہال (بلاک B، پہلی منزل) میں منعقد ہوگی۔ چیئرمین میٹرک بورڈغلام حسین سوہو اپنے کلیدی خطبے سے ان مقابلوں کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ تمام مقابلہ جات روزانہ صبح10:00 بجے شروع ہوں گے۔ ریسرچ سیکشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق پروگرام کی تفصیل کے مطابق 20 جنوری (منگل) انگریزی تقاریر کے مقابلے۔21 جنوری (بدھ) اردو تقاریر کے مقابلے۔ 22 جنوری (جمعرات) سندھی تقاریر کے مقابلے۔ 26 جنوری (پیر) مقابلہ حُسنِ قرأت۔ 27 جنوری (منگل) مقابلہ ھُسنِ نعت خوانی او ر آخری روز 28 جنوری (بدھ) مقابلہ ملی نغمات منعقد ہوںگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔