Express News:
2026-07-24@01:13:14 GMT

سندھ کا باقی صوبوں سے مقابلہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم تعلیم، صحت اور ترقی کے منصوبوں سے مقابلہ کرنا چاہیں گے۔ سندھ کے عوام سے یہ مقابلہ کوئی نہیں جیت سکتا۔ انھوں نے تھر میں این ای ڈی ڈی یونیورسٹی کے تھر انسٹی ٹیوٹ کا سنگ بنیاد رکھا اور کہا کہ ہم اپنی حکومت ختم ہونے سے پہلے اس انسٹی ٹیوٹ کو یونیورسٹی میں تبدیل کریں گے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2028ء تک یہ مکمل کیمپس بن جائے گا اور تھرکو بعد میں بہترین یونیورسٹی مل جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا فیز ٹو مکمل ہو جائے گا۔ تھر کے پس ماندہ علاقے میں حکومت سندھ کا یہ اقدام بلاشبہ تعلیمی میدان میں ایک اہم قدم ہے جس سے مستقبل میں تھر اور قریبی علاقوں کے طلبا و طالبات کو یونیورسٹی میسر آجائے گی۔

سوشل میڈیا پر اندرون سندھ تعلیم، صحت اور مواصلاتی سہولیات کی عدم فراہمی کے سلسلے میں اصل حقائق بھی آشکار کیے جاتے ہیں اور سندھ حکومت کی ترقیاتی کہانی کے جواب میں بتایا جاتا ہے کہ شہروں کی حد تک تو سندھ حکومت نے تعلیم پر توجہ دی ہے۔ نئی یونیورسٹیاں اور ان کے کیمپس بھی قائم ہو رہے ہیں مگر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے صرف شہری طلبا کا ہی نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں رہنے والوں کا بھی حق بلکہ ان کی ضرورت ہوگی کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دیہی علاقوں سے شہروں میں قائم اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلہ لے کر وہ بھی اپنا مستقبل بہتر بنائیں کیونکہ حصول تعلیم اور ترقی ان کا بھی حق ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر لاشاری گوٹھ کے کسی پرائمری اسکول کی حالت زار بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کا عنوان’’ امیر سندھ جا مظلوم مانڑو‘‘ ہے۔ رپورٹ میں اسکول کے باہر کچی زمین پر چھوٹے بچے پڑھائے جاتے ہیں اور سخت سردی میں معصوم بچے اور بچیاں ٹھٹھر رہی ہیں اور خود گرم چادر اوڑھے ایک شخص دو بچوں کو لے کر کھڑا ہے اور زمین پر بچے کھڑے اور بیٹھے ہیں اور مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ یہ اسکول ضلع لاڑکانہ کا ہے جہاں بڑے بھی سردی میں کانپ رہے ہیں اور سخت سردی میں بھی یہ چھوٹے بچے پڑھنے آئے ہوئے ہیں جن کے پاس سردی سے محفوظ رہنے کے معقول گرم کپڑے بھی نہیں ہیں۔

بعض کے کپڑے پھٹے ہوئے اور ان کے پیروں میں چپل تک نہیں ہیں۔ مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کا اربوں روپے کا تعلیمی بجٹ ہے مگر بااثر افراد، سیاسی رہنماؤں اور تعلیمی افسران اور حکومت کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا۔ اس صورتحال پر عوام روئیں یا ماتم کریں۔ مقررکا کہنا ہے کہ کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے اسے تعلیم سے محروم رکھنا ہوتا ہے اور بااثر افراد خود تعلیم کا فروغ نہیں چاہتے۔

بلاول بھٹو نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا تھا کہ سندھ کا مقابلہ کسی صوبے سے نہیں ترقی میں دنیا سے ہے اور سندھ حکومت نے گمبٹ میں جگر کا جو جدید اسپتال بنایا تھا، اس میں ملک بھر کے لوگ آ کر مفت علاج کرا رہے ہیں جب کہ کسی اور صوبے میں سندھ جیسی صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ سندھ حکومت نے ایک عظیم محسن ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کے تعاون سے کراچی کے بعد اندرون سندھ شہروں میں دل کے علاج کی سہولیات ضرور فراہم کی ہیں جب کہ اندرون سندھ عام علاج کی سہولیات دیہی علاقوں میں موجود نہیں ہیں۔ بڑے دیہاتوں میں صحت کے مراکز تو ہیں مگر وہاں طبی سہولتیں ہیں، نہ ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں جو اکثر شہروں سے دیہاتوں میں برائے نام جاتے ہیں۔ ان صحت مراکز میں دوائیں برائے نام ہوتی ہیں جو چند گھنٹوں کے لیے کھلتے اور اکثر بند رہتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں بہترین توکیا عام بیماری کے علاج کی بھی سہولت میسر نہیں تو ایمبولینس کا تو قصور بھی نہیں، البتہ تعلقہ سطح کے بڑے کہلانے والے کچھ اسپتالوں میں کچھ سہولتیں مریضوں کے لیے بیڈ اور ایمبولینس موجود ہوتی ہے جو مریضوں سے زیادہ ڈاکٹروں اور عملے کے لیے ہوتی ہے۔ لوگ اپنے بیماروں کو بیل وگدھا گاڑیوں میں اپنے دیہاتوں سے قریبی سرکاری اسپتال لاتے ہیں اور فوت ہو جانے والوں کی واپسی کے لیے انھیں ایمبولینس میسر نہیں آتی۔ میتوں کے لیے نجی ٹرانسپورٹ والے ایمبولینس نہ ملنے پر میتوں کے منہ مانگے کرائے مانگتے ہیں اور جو غریب مالی سکت نہیں رکھتے وہ اپنی ذاتی بیل اورگدھا گاڑیوں پر اپنی میت اپنے گاؤں لے جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بعض دفعہ ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہیں کہ جہاں میت کو قبرستان لے جانے کا راستہ نہیں ہوتا تو لوگ نہر میں اتر کر میت کندھوں پر رکھ کر قبرستان لے جاتے ہیں۔ اندرون سندھ کے دیہاتوں میں پرائمری اسکولوں کی بھی حالت بہت بری ہے اور گھوسٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جہاں فرنیچر ہے نہ اساتذہ باقاعدگی سے آتے ہیں، چھوٹے شہروں میں بھی سرکاری اسکولوں میں تعلیم برائے نام ہے وہاں بھی نجی اسکولوں میں لوگ اپنے بچے پڑھانے پر مجبور ہیں۔ زیادہ تر نجی اسکولوں کی فیسیں زیادہ اور نجی اسکول معقول کاروبار بن چکے ہیں۔

کے پی، سندھ اور بلوچستان کے برعکس پنجاب میں سرکاری اسکولز کی حالت کچھ بہتر ہے اور پڑھا لکھا پنجاب پروگرام کے تحت حکومت پنجاب تعلیم پر توجہ دوسرے صوبوں سے زیادہ دے رہی ہے اور سرکاری اسپتالوں کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور پنجاب میں قیمتی دوائیں مریضوں کو مفت ان کے گھروں میں پہنچائی جا رہی ہیں مگر وہاں بھی پرائیویٹ اسپتالوں اور کلینکس میں ڈاکٹر صرف کمائی میں مصروف ہیں کیونکہ سرکاری اسپتالوں میں رش کے باعث لوگ نجی ڈاکٹروں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔

لاہور میں سرکاری طور ایک کینسر اسپتال ایک سال میں مکمل ہوا ہے، پنجاب کا تعلیمی، صحت اور ترقی میں کے پی اور بلوچستان سے تو کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں مگر سندھ مالی طور پر مضبوط ہے اور ہر میدان میں پنجاب کا مقابلہ کر سکتا ہے جس کو صدر مملکت کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے مگر وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرح فعال اور متحرک ہونا پڑے گا۔

سندھ کے حکمرانوں کو صرف پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کی خوشنودی اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانے سے زیادہ لاتعداد مسائل کا شکار سندھ اور خاص کر سندھ کے دارالحکومت کراچی پر توجہ دینا ہوگی جو دنیا کے بدترین شہروں میں شمارکیا جا رہا ہے اور سندھ کی ترقی کا آئینہ ہے جس کی ترقی ملک کی ترقی قرار دی جاتی ہے، تھر بدلنے سے سندھ بدل سکتا ہے کراچی یا پاکستان نہیں بدل سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دیہی علاقوں سندھ حکومت جاتے ہیں نہیں ہیں کی ترقی سندھ کے ہیں اور رہے ہیں ہیں مگر کے لیے ہے اور

پڑھیں:

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔

فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔

رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔

ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن