Express News:
2026-07-24@04:18:34 GMT

سندھ کا باقی صوبوں سے مقابلہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم تعلیم، صحت اور ترقی کے منصوبوں سے مقابلہ کرنا چاہیں گے۔ سندھ کے عوام سے یہ مقابلہ کوئی نہیں جیت سکتا۔ انھوں نے تھر میں این ای ڈی ڈی یونیورسٹی کے تھر انسٹی ٹیوٹ کا سنگ بنیاد رکھا اور کہا کہ ہم اپنی حکومت ختم ہونے سے پہلے اس انسٹی ٹیوٹ کو یونیورسٹی میں تبدیل کریں گے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2028ء تک یہ مکمل کیمپس بن جائے گا اور تھرکو بعد میں بہترین یونیورسٹی مل جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا فیز ٹو مکمل ہو جائے گا۔ تھر کے پس ماندہ علاقے میں حکومت سندھ کا یہ اقدام بلاشبہ تعلیمی میدان میں ایک اہم قدم ہے جس سے مستقبل میں تھر اور قریبی علاقوں کے طلبا و طالبات کو یونیورسٹی میسر آجائے گی۔

سوشل میڈیا پر اندرون سندھ تعلیم، صحت اور مواصلاتی سہولیات کی عدم فراہمی کے سلسلے میں اصل حقائق بھی آشکار کیے جاتے ہیں اور سندھ حکومت کی ترقیاتی کہانی کے جواب میں بتایا جاتا ہے کہ شہروں کی حد تک تو سندھ حکومت نے تعلیم پر توجہ دی ہے۔ نئی یونیورسٹیاں اور ان کے کیمپس بھی قائم ہو رہے ہیں مگر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے صرف شہری طلبا کا ہی نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں رہنے والوں کا بھی حق بلکہ ان کی ضرورت ہوگی کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دیہی علاقوں سے شہروں میں قائم اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلہ لے کر وہ بھی اپنا مستقبل بہتر بنائیں کیونکہ حصول تعلیم اور ترقی ان کا بھی حق ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر لاشاری گوٹھ کے کسی پرائمری اسکول کی حالت زار بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کا عنوان’’ امیر سندھ جا مظلوم مانڑو‘‘ ہے۔ رپورٹ میں اسکول کے باہر کچی زمین پر چھوٹے بچے پڑھائے جاتے ہیں اور سخت سردی میں معصوم بچے اور بچیاں ٹھٹھر رہی ہیں اور خود گرم چادر اوڑھے ایک شخص دو بچوں کو لے کر کھڑا ہے اور زمین پر بچے کھڑے اور بیٹھے ہیں اور مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ یہ اسکول ضلع لاڑکانہ کا ہے جہاں بڑے بھی سردی میں کانپ رہے ہیں اور سخت سردی میں بھی یہ چھوٹے بچے پڑھنے آئے ہوئے ہیں جن کے پاس سردی سے محفوظ رہنے کے معقول گرم کپڑے بھی نہیں ہیں۔

بعض کے کپڑے پھٹے ہوئے اور ان کے پیروں میں چپل تک نہیں ہیں۔ مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کا اربوں روپے کا تعلیمی بجٹ ہے مگر بااثر افراد، سیاسی رہنماؤں اور تعلیمی افسران اور حکومت کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا۔ اس صورتحال پر عوام روئیں یا ماتم کریں۔ مقررکا کہنا ہے کہ کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے اسے تعلیم سے محروم رکھنا ہوتا ہے اور بااثر افراد خود تعلیم کا فروغ نہیں چاہتے۔

بلاول بھٹو نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا تھا کہ سندھ کا مقابلہ کسی صوبے سے نہیں ترقی میں دنیا سے ہے اور سندھ حکومت نے گمبٹ میں جگر کا جو جدید اسپتال بنایا تھا، اس میں ملک بھر کے لوگ آ کر مفت علاج کرا رہے ہیں جب کہ کسی اور صوبے میں سندھ جیسی صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ سندھ حکومت نے ایک عظیم محسن ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کے تعاون سے کراچی کے بعد اندرون سندھ شہروں میں دل کے علاج کی سہولیات ضرور فراہم کی ہیں جب کہ اندرون سندھ عام علاج کی سہولیات دیہی علاقوں میں موجود نہیں ہیں۔ بڑے دیہاتوں میں صحت کے مراکز تو ہیں مگر وہاں طبی سہولتیں ہیں، نہ ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں جو اکثر شہروں سے دیہاتوں میں برائے نام جاتے ہیں۔ ان صحت مراکز میں دوائیں برائے نام ہوتی ہیں جو چند گھنٹوں کے لیے کھلتے اور اکثر بند رہتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں بہترین توکیا عام بیماری کے علاج کی بھی سہولت میسر نہیں تو ایمبولینس کا تو قصور بھی نہیں، البتہ تعلقہ سطح کے بڑے کہلانے والے کچھ اسپتالوں میں کچھ سہولتیں مریضوں کے لیے بیڈ اور ایمبولینس موجود ہوتی ہے جو مریضوں سے زیادہ ڈاکٹروں اور عملے کے لیے ہوتی ہے۔ لوگ اپنے بیماروں کو بیل وگدھا گاڑیوں میں اپنے دیہاتوں سے قریبی سرکاری اسپتال لاتے ہیں اور فوت ہو جانے والوں کی واپسی کے لیے انھیں ایمبولینس میسر نہیں آتی۔ میتوں کے لیے نجی ٹرانسپورٹ والے ایمبولینس نہ ملنے پر میتوں کے منہ مانگے کرائے مانگتے ہیں اور جو غریب مالی سکت نہیں رکھتے وہ اپنی ذاتی بیل اورگدھا گاڑیوں پر اپنی میت اپنے گاؤں لے جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بعض دفعہ ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہیں کہ جہاں میت کو قبرستان لے جانے کا راستہ نہیں ہوتا تو لوگ نہر میں اتر کر میت کندھوں پر رکھ کر قبرستان لے جاتے ہیں۔ اندرون سندھ کے دیہاتوں میں پرائمری اسکولوں کی بھی حالت بہت بری ہے اور گھوسٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جہاں فرنیچر ہے نہ اساتذہ باقاعدگی سے آتے ہیں، چھوٹے شہروں میں بھی سرکاری اسکولوں میں تعلیم برائے نام ہے وہاں بھی نجی اسکولوں میں لوگ اپنے بچے پڑھانے پر مجبور ہیں۔ زیادہ تر نجی اسکولوں کی فیسیں زیادہ اور نجی اسکول معقول کاروبار بن چکے ہیں۔

کے پی، سندھ اور بلوچستان کے برعکس پنجاب میں سرکاری اسکولز کی حالت کچھ بہتر ہے اور پڑھا لکھا پنجاب پروگرام کے تحت حکومت پنجاب تعلیم پر توجہ دوسرے صوبوں سے زیادہ دے رہی ہے اور سرکاری اسپتالوں کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور پنجاب میں قیمتی دوائیں مریضوں کو مفت ان کے گھروں میں پہنچائی جا رہی ہیں مگر وہاں بھی پرائیویٹ اسپتالوں اور کلینکس میں ڈاکٹر صرف کمائی میں مصروف ہیں کیونکہ سرکاری اسپتالوں میں رش کے باعث لوگ نجی ڈاکٹروں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔

لاہور میں سرکاری طور ایک کینسر اسپتال ایک سال میں مکمل ہوا ہے، پنجاب کا تعلیمی، صحت اور ترقی میں کے پی اور بلوچستان سے تو کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں مگر سندھ مالی طور پر مضبوط ہے اور ہر میدان میں پنجاب کا مقابلہ کر سکتا ہے جس کو صدر مملکت کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے مگر وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرح فعال اور متحرک ہونا پڑے گا۔

سندھ کے حکمرانوں کو صرف پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کی خوشنودی اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانے سے زیادہ لاتعداد مسائل کا شکار سندھ اور خاص کر سندھ کے دارالحکومت کراچی پر توجہ دینا ہوگی جو دنیا کے بدترین شہروں میں شمارکیا جا رہا ہے اور سندھ کی ترقی کا آئینہ ہے جس کی ترقی ملک کی ترقی قرار دی جاتی ہے، تھر بدلنے سے سندھ بدل سکتا ہے کراچی یا پاکستان نہیں بدل سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دیہی علاقوں سندھ حکومت جاتے ہیں نہیں ہیں کی ترقی سندھ کے ہیں اور رہے ہیں ہیں مگر کے لیے ہے اور

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن