Al Qamar Online:
2026-07-24@03:53:17 GMT

پاکستان میں شعبان کے چاند کی رویت سے متعلق نئی پیشگوئی

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

پاکستان میں شعبان کے چاند کی رویت سے متعلق نئی پیشگوئی


لاہور:

غیرسرکاری تنظیم رویتِ ہلال ریسرچ کونسل نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان میں پیر 19 جنوری 2026ء کی شام ہلالِ شعبان کی رویت ممکن نہیں ہوگی، جس کے باعث شعبان المعظم 1447ھ کا آغاز بدھ 21 جنوری 2026ء سے ہوگا۔

کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی کے مطابق نیا چاند اتوار 18 اور پیر 19 جنوری 2026ء کی درمیانی شب پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 52 منٹ پر پیدا ہوگا۔ پیر 19 جنوری کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 18 گھنٹوں سے کم ہوگی، جبکہ ہلال کی رویت کے لیے چاند کی عمر کم از کم 19 گھنٹے ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ غروبِ شمس اور غروبِ قمر کے درمیان فرق بھی مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترے گا۔ گلگت اور مظفر آباد میں یہ فرق 29 منٹ، پشاور، اسلام آباد، لاہور اور چارسدہ میں 30 منٹ، کوئٹہ میں 31 منٹ جبکہ کراچی اور جیوانی میں 33 منٹ ہوگا، حالانکہ رویت کے لیے کم از کم 40 منٹ کا فرق ضروری سمجھا جاتا ہے۔



پاکستان میں شعبان کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو نے پیش گوئی کردی

رویتِ ہلال ریسرچ کونسل کے مطابق ان سائنسی حقائق کی بنیاد پر مطلع صاف ہونے کی صورت میں بھی پیر 19 جنوری 2026ء کی شام نہ ننگی آنکھ سے، نہ دوربین اور نہ ہی ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ہلال دیکھا جا سکے گا۔

اس طرح رجب المرجب کے 30 دن مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں شعبان المعظم 1447ھ کا آغاز بدھ 21 جنوری 2026ء سے ہوگا۔

واضع رہے کہ شعبان المعظم کی رویت کا شرعی اعلان مرکزی رویت ہلال کونسل کرے گی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پاکستان میں پیر 19 جنوری کی رویت

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل