بورڈ آف پیس: ایک ارب ڈالر دیں، مستقل رکنیت لیں، ٹرمپ کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے دنیا کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ ان کے نئے ’بورڈ آف پیس‘ میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کریں۔
یہ بورڈ عالمی تنازعات کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس کے چیئرمین خود ٹرمپ ہوں گے۔
کون شامل ہو سکتا ہے؟رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے مختلف عالمی رہنماؤں کو بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے جن میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان، کینیڈا کے مارک کیرنی بھی شامل ہیں۔
بورڈ کے چارٹر کے مطابق ہر ممبر ملک کی رکنیت زیادہ سے زیادہ 3 سال کے لیے ہوگی۔ اگر کسی ملک نے پہلے سال میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ دیے تو رکنیت کی مدت اس سے تجاوز کر سکتی ہے۔
بورڈ کا مقصد اور ڈھانچہبورڈ کی ابتدا غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے کی گئی تھی لیکن اس کا دائرہ کار صرف فلسطینی علاقے تک محدود نہیں۔
بورڈ کے تحت ایک اہم بورڈ، ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹس کمیٹی اور ایک ایگزیکٹو بورڈ ہوگا۔
بورڈ کا مقصدمذکورہ بورڈ کا مقصد استحکام قائم کرنا، قابل اعتماد حکمرانی بحال کرنا اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں دیرپا امن قائم کرنا۔
عالمی تنقید اور تحفظاتبورڈ کا چارٹر بین الاقوامی اداروں جیسے اقوام متحدہ پر تنقید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بورڈ کو ناکام اداروں سے ہٹ کر کام کرنے کی ہمت رکھنی چاہیے۔
رکنیت صرف چیئرمین کے دعوت نامے پر ممکن ہے۔ ٹرمپ بورڈ سے ممالک کو نکالنے کا اختیار رکھتے ہیں جبکہ ان کی جگہ کسی کو تعینات کرنے کا بھی حق انہیں حاصل ہے۔
ابتدائی اقداماتمصر، ترکی، ارجنٹائن اور کینیڈا کے رہنماؤں کو بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔
ٹرمپ نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، جیرڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکوف کو بورڈ کا حصہ بنایا۔
روس کی ردعملصدر پیوٹن کو بھی بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تاہم روس نے کہا کہ وہ اس آفر کے تمام پہلوؤں کو واشنگٹن کے ساتھ واضح کرنا چاہتا ہے۔
روسی صدر نے سابقہ طور پر ٹرمپ کی عالمی تنازعات حل کرنے کی کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایک ارب ڈالر میں مستقل رکنیت بورڈ آف پیس بورڈ آف پیس کی مستقل رکنیت بورڈ آف پیس کی مستقل نشست.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایک ارب ڈالر میں مستقل رکنیت بورڈ ا ف پیس بورڈ ا ف پیس کی مستقل رکنیت بورڈ ا ف پیس کی مستقل نشست ایک ارب ڈالر بورڈ ا ف پیس بورڈ کا کے لیے
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر