عالمی رہنماؤں کا ٹرمپ کے امن بورڈ منصوبے پر محتاط ردعمل، اقوامِ متحدہ کے کردار پر خدشات
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک) عالمی رہنما ؤں کاٹرمپ کے امن بورڈ منصوبے پر محتاط رد عمل، اقوامِ متحدہ کے کردار پر خدشات، ٹرمپ کی 60 ممالک کو بورڈ میں شمولیت کی دعوت، مستقل رکنیت کیلئے ایک ارب ڈالر ادا کرنیکی شرط، بورڈ کام کا آغاز غزہ سے کریگا اور دیگر تنازعات تک پھیلائے گا، ٹرمپ تا حیات چیئرمین ہوں گے ، ہنگری کا شمولیت کا اعلان، مخالفین کا تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا یہ اقوام متحدہ کے کردار کو محدود کرے گا،بورڈ کا قیام کالونی ساخت کی مانند ہے، کسی بھی فلسطینی کو شامل نہیں کیا گیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی تنازعات کے حل کے لیے ʼبورڈ آف پیسʼ منصوبے پر عالمی رہنماؤں نے محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے، کیونکہ کچھ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ کے کام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بورڈ کا آغاز غزہ کے تنازع سے ہوگا اور بعد میں دیگر عالمی تنازعات تک پھیلے گا، جبکہ ٹرمپ زندگی بھر چیئرمین رہیں گے۔ مستقل رکنیت کے لیے ہر ملک سے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: متحدہ کے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔