گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی سے عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق سخت مؤقف اور یورپی ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر بے یقینی اور اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ یکم فروری سے آٹھ یورپی ممالک کی درآمدات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کریں گے، جو یکم جون سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ ان ممالک میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اس اعلان سے یورو کرنسی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے جبکہ عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھی جا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔
یورپی رہنماؤں نے امریکی صدر کی اس دھمکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ٹیرف کی دھمکیاں یورپ اور امریکا کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور یہ ایک خطرناک تجارتی جنگ کو جنم دے سکتی ہیں۔
مزید پڑھیںگرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کی یورپی ممالک کو بھاری ٹیرف کی کھلی دھمکی
سب سے بڑا جزیرہ گرین لینڈ نایاب معدنیات سے مالا مال
گرین لینڈ میں یورپی افواج کی تعیناتی سے ٹرمپ منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، وائٹ ہاؤس
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے واقعی ٹیرف نافذ کیے تو یورپی یونین امریکا کے خلاف ایک خصوصی اور سخت معاشی ہتھیار استعمال کر سکتی ہے، جو اس سے قبل کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان ٹیرف دھمکیوں کو غلطی قرار دیا ہے جبکہ نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ نے اسے بلیک میلنگ سے تعبیر کیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی امریکی صدر سے جلد بات چیت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
ناروے کے وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور تمام فریقوں کو معاملہ سنجیدگی سے حل کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یورپی ممالک گرین لینڈ کیا ہے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔