گرین لینڈ کا تنازع: یورپی یونین کی امریکی محصولات کے جواب میں سخت تجارتی اقدامات کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر بڑھتے ہوئے ٹیرف دباؤ کے جواب میں اپنے سخت ترین تجارتی ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، تاہم فی الحال ان اقدامات کو مؤخر رکھتے ہوئے آخری مرحلے کی سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اتوار کو یورپی سفیروں کے ہنگامی اجلاس کے بعد رکن ممالک نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، لیکن فوری طور پر اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کو فعال کرنے سے گریز کیا۔ اس انتہائی طاقتور تجارتی آلے کو اس کی شدت کے باعث ‘ٹریڈ بازوکا’ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے
تاہم رپورٹس کے مطابق اگر صدر ٹرمپ نے نئے امریکی محصولات نافذ کیے تو یورپی یونین امریکا کی مصنوعات پر 93 ارب یورو (تقریباً 108 ارب ڈالر) کے معطل شدہ جوابی ٹیرف پیکج کو دوبارہ نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیکج گزشتہ سال ٹرمپ کی پہلی ٹیرف کارروائی کے جواب میں تیار کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں امریکا اور یورپی یونین کے درمیان عارضی تجارتی معاہدے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔
کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ یکم فروری سے یورپ کے آٹھ نیٹو ممالک ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، برطانیہ اور فن لینڈ سے درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، کیونکہ ان ممالک نے گرین لینڈ کے حصول کی امریکی کوشش کی مخالفت کی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یکم جون تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ، یورپی طاقتوں نے ڈنمارک کی حمایت کر دی
یورپی یونین کی ممکنہ جوابی حکمتِ عملی دو سطحوں پر مشتمل ہے۔ فوری سطح پر 93 ارب یورو کا جوابی ٹیرف پیکج موجود ہے، جس کے بارے میں ایک یورپی سفارتکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو یہ پیکج ‘6 فروری کو خودکار طور پر دوبارہ نافذ ہو سکتا ہے۔’
اس سے بھی زیادہ اہم سطح پر یورپی قیادت اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کے غیر معمولی استعمال پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ 2023 میں منظور کیا گیا یہ آلہ یورپی یونین کو معاشی دباؤ کے جواب میں سخت اقدامات کی اجازت دیتا ہے، جن میں مارکیٹ تک رسائی محدود کرنا، سرمایہ کاری پر پابندیاں اور دانشورانہ املاک کے حقوق سے متعلق کارروائیاں شامل ہیں۔ یہ قانون بنیادی طور پر حریف معاشی طاقتوں سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مبینہ طور پر ٹرمپ کی دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اس آلے کو فعال کرنے کا واضح مطالبہ کیا ہے۔ پولیٹیکو کے مطابق، فرانسیسی صدارتی دفتر نے اتوار کو کہا کہ ‘وہ فرانس کی جانب سے اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کے نفاذ کا مطالبہ کریں گے۔’
ادھر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے جمعرات 22 جنوری کو یورپی رہنماؤں کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ مشترکہ مؤقف طے کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ‘کسی بھی قسم کے دباؤ کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا گرین لینڈ یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا گرین لینڈ یورپ یورپی یونین کے جواب میں گرین لینڈ کے لیے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔