نااہل قرار دیے گئے کون سے ارکان پارلیمان کی رکنیت بحال ہوگئی؟ فہرست سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیے گئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان کی رکنیت بحال کر دی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ارکان نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد وہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی تقاضے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
نااہلی کی وجہ کیا تھی؟نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت تمام ارکانِ اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔
اس قانون کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے 16 جنوری 2026 کو متعدد ارکان کو رکنیت سے محروم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
کن اسمبلیوں کے ارکان متاثر ہوئے؟الیکشن کمیشن کے مطابق نااہلی کا اطلاق سینیٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی، سندھ اسمبلی، خیبرپختونخوا اسمبلی، بلوچستان اسمبلی کے ارکان پر ہوا تھا۔
قانونی تقاضے پورے، رکنیت بحالنوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اب تمام متعلقہ ارکان نے اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137(3) کے تحت ان کی اراکین اسمبلی کی حیثیت بحال کر دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ قانون کے مطابق اور فراہم کردہ اختیارات کے تحت کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق جن ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت بحال کی گئی ہے، ان کے نام درج ذیل ہیں:
سینیٹ
عابد شیر علی(پنجاب)، سید کاظم علی شاہ( سندھ)، نورالحق قادری(خیبر پختونخوا) اور عبد القدوس(بلوچستان)۔
قومی اسمبلی
سردار غلام عباس، محمد محبوب سلطان، سید عبدالقادر گیلانی، میر عامر علی خان مگسی، ارشد عبداللہ ووہرا اور صوفیہ سعید شاہ۔
پنجاب اسمبلی
سردار محمد عاصم شیر میکن، علی حسین خان، جعفر علی ہوچھا ،محمد طاہر پرویز میاں محمد آصف ، امتیاز محمود، اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض، کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، محمد عون حمید، سردار شیر افغان گورچانی اور روبینہ نذیر۔
سندھ اسمبلی
آغا شہباز علی درانی، نوابزادہ برہان چانڈیو، سید اویس قادر شاہ، شیراز شوکت راجپر، جام خان شورو، سعید غنی، فرح سہیل اور کھٹومل۔
خیبر پختونخوا اسمبلی
میاں محمد عمر اور خدیجہ بی بی۔
بلوچستان اسمبلی
فیصل خان جمالی، بخت محمد، زارق خان اور صفیہ بی بی۔
شفافیت کے عمل پر زورالیکشن کمیشن نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اثاثہ جات کی بروقت تفصیلات جمع کرانا شفافیت اور احتساب کے عمل کا اہم حصہ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن آف پاکستان بلوچستان اسمبلی پنجاب اسمبلی خیبرپختونخوا اسمبلی سندھ اسمبلی سینیٹ قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ا ف پاکستان بلوچستان اسمبلی پنجاب اسمبلی خیبرپختونخوا اسمبلی سندھ اسمبلی سینیٹ قومی اسمبلی الیکشن کمیشن قومی اسمبلی اور واجبات رکنیت بحال کے مطابق کے تحت
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔