بلدیاتی انتخابات کا بروقت انعقاد، الیکشن کمیشن نے قانون سازی کی سفارش کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو قانون سازی کی باضابطہ سفارشات ارسال کر دی ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ نظام ملکی جمہوری اداروں کا ایک اہم ستون ہے، جو مقامی سطح پر عوام کو سہولیات فراہم کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کی تجویزالیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو ایک قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو سفارش کی ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 219 میں ترمیم کی جائے۔
سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے یا ان کی تحلیل کی صورت میں اسی وقت نافذ لوکل گورنمنٹ قوانین کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
حکومتوں کی عدم دلچسپی پر تشویشترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق یہ سفارشات اس لیے بھیجی گئی ہیں کیونکہ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی، جس کے باعث مقامی سطح پر جمہوری عمل متاثر ہوتا ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
مشترکہ آئینی ذمہ داریالیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صرف الیکشن کمیشن کی نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشترکہ آئینی ذمہ داری ہے۔ بروقت انتخابات نہ ہونے سے نچلی سطح پر جمہوریت کمزور ہوتی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عوام کو پہنچتا ہے۔
جمہوری نظام کے استحکام پر زورالیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کے تسلسل اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے واضح اور مؤثر قانونی فریم ورک بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن آف پاکستان بلدیاتی انتخابات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ا ف پاکستان بلدیاتی انتخابات بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔