پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شرکت کو بانی عمران خان سے ملاقات سے مشروط کر دیا ہے۔
چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پر پارٹی کے شدید تحفظات ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی نے پہلے بھی کمیشن کے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور کمیٹیوں کا بائیکاٹ کیا۔
گوہر علی خان نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جو جاری ہوا، وہ بہتر ہوا، اور توقع ہے کہ سینیٹ میں بھی جلد اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔
چئیرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ بانی عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا، اور پارٹی اس معاملے پر اپنا موقف باضابطہ طور پر پیش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اجلاس میں شرکت پی ٹی آئی
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔