بنگلہ دیش: چیف الیکشن کمشنر کی تمام فریقین سے شفاف انتخابات کے لیے تعاون کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اے ایم ایم ناصر الدین نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ قومی انتخابات کو پُرامن، شفاف اور شمولیتی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
چیف الیکشن کمشنر نے یہ بات اتوار کی شام اگرگاؤں، ڈھاکا میں واقع الیکشن کمیشن آڈیٹوریم میں کہی، جہاں 13ویں جاتیہ سنگساد (قومی پارلیمنٹ) کے انتخابات کے لیے ریٹرننگ افسران کی جانب سے نامزدگی فارموں کی منظوری یا مسترد کیے جانے کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں کی 9 روزہ سماعت مکمل ہوئی۔
ان سماعتوں میں مکمل الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں شریک رہا۔
اپیل کنندگان اور ان کے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے ناصر الدین نے کہا کہ آپ سب نے اپیلوں کے فیصلے میں ہماری بھرپور مدد کی۔ یہ تعاون یہاں ختم نہیں ہوتا، ہمیں آئندہ ووٹنگ کے عمل کو ہموار بنانے کے لیے بھی آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔
شمولیتی اور منصفانہ انتخابات پر زورچیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک منصفانہ اور شمولیتی انتخابی عمل چاہتا ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور عناصر کی شرکت یقینی ہو۔
انہوں نے آزاد امیدواروں کے لیے ایک فیصد ووٹ کی شرط سے متعلق کمیشن کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کا مقصد انتخابات میں وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
نوجوانوں کی سیاسی آگاہی پر اطمینانناصر الدین نے ملک کے عوام، بالخصوص نوجوانوں کی سیاسی آگاہی پر اطمینان کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن اور اس کی ٹیم کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی شعور جمہوری عمل کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
جانبداری کے الزامات مستردچیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اپیلوں کے فیصلے کسی بھی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام فیصلے مکمل تجزیے اور اپنی بہترین صلاحیت اور فہم کے مطابق کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی الیکشن کمیشن کو تمام حلقوں سے اسی طرح کا تعاون حاصل رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش عام انتخابات بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اے ایم ایم ناصر الدین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش عام انتخابات چیف الیکشن کمشنر الیکشن کمیشن ناصر الدین کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔