بنگلہ دیش: طلبہ تنظیم کا الیکشن کمیشن کا دوسرے روز بھی گھیراؤ، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی طلبہ تنظیم بنگلہ دیش جاتیاتابادی چھاترا دل (JCD) نے الیکشن کمیشن (ای سی) کے متنازع فیصلوں اور مبینہ جانبداری کے خلاف دوسرے روز بھی اپنا احتجاج جاری رکھا۔
پیر کو ہزاروں طلبہ کارکنان نے اگرگاؤں، ڈھاکا میں واقع الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹرز کا گھیراؤ کیا۔
چھاترا دل کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے 3 بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
اتوار کو سینکڑوں کارکنان نے صبح 11 بجے سے شام تقریباً 8 بجے تک الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دیا تھا، جس کے اختتام پر تنظیم کے صدر رقیب الاسلام نے اعلان کیا تھا کہ احتجاج پیر کو بھی جاری رہے گا۔
اعلان کے مطابق پیر کو ساڑھے 11 بجے کے قریب مظاہرین دوبارہ جمع ہونا شروع ہوئے۔ احتجاج میں مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ رہنماؤں اور کارکنان نے شرکت کی۔
چھاترا دل کی مرکزی قیادت، جن میں صدر اور جنرل سیکریٹری بھی شامل تھے، احتجاجی مظاہرے میں موجود رہی۔
چھاترا دل نے الیکشن کمیشن کے سامنے 3 اہم مطالبات رکھے ہیں۔
1۔ پوسٹل بیلٹ سے متعلق فیصلےتنظیم کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن نے پوسٹل بیلٹ کے معاملے میں جانبدارانہ اور مشکوک فیصلے کیے ہیں، جس سے انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
2۔ الیکشن کمیشن پر سیاسی دباؤچھاترا دل کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن کسی خاص سیاسی جماعت کے دباؤ میں آ کر عجلت اور غیر دانشمندانہ فیصلے کر رہا ہے، جو اس کے وقار، آزادی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
3۔ شاہ جلال یونیورسٹی طلبہ یونین الیکشنتنظیم نے شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (SUST) کے طلبہ یونین انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو’متنازع ‘ قرار دیا۔
چھاترا دل کے مطابق یہ اقدام بھی ایک مخصوص سیاسی جماعت کے اثر و رسوخ کے تحت کیا گیا، جو کیمپس میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے باہر کشیدہ صورتحالاحتجاج کے پیشِ نظر سیکیورٹی فورسز نے الیکشن کمیشن کے مرکزی دروازے پر بیریئرز لگا دیے، جبکہ چھاترا دل کے کارکنان نے سامنے والی سڑک بلاک کر دی۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ پر رہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
اتوار کی شام چھاترا دل کے 5 رکنی وفد نے الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔
اگرچہ الیکشن کمیشن نے مطالبات پر غور کی یقین دہانی کرائی، تاہم چھاترا دل کے رہنماؤں کے مطابق کوئی عملی پیش رفت نہ ہونے کے باعث پیر کو احتجاج دوبارہ شروع کیا گیا۔
صورتحال بدستور کشیدہالیکشن کمیشن اور چھاترا دل کے درمیان تعطل برقرار ہے اور فی الحال احتجاج ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ دوسری طرف شہر میں سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کے نے الیکشن کمیشن کارکنان نے پیر کو
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔