18ویں آئینی ترمیم کے تحت ملک بھر میں مؤثر لوکل گورنمنٹ کا نظام نافذ ہونا چاہیے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت ملک بھر میں مؤثر لوکل گورنمنٹ کا نظام نافذ ہونا چاہیے تاکہ عوامی مسائل نچلی سطح پر حل کیے جا سکیں۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نےقومی اسمبلی کےاجلاس سے اظہارخیال کرتے ہوئےکہا صوبائی حکومتوں کے اختیارات مقامی حکومتوں کومنتقل ہونےچاہیے،جب تک گلی اورمحلے کی سطح پرعوامی نمائندگی نہیں ہو گی،مسائل حل نہیں ہوسکتے،صوبائی حکومتیں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے سے کتراتی اور گھبراتی ہیں،جس کے باعث عام آدمی کو اس کے بنیادی حقوق میسرنہیں آتے۔
خواجہ آصف نےچین کی مثال دیتےہوئےکہاکہ صدرشی جن پنگ ایک مضبوط اورمنظم نظام سےگزرکر موجودہ مقام تک پہنچےہیں،تمام صوبوں میں ایسا نظام ہوجہاں اپنےمحلے میں ان کا نمائندہ ہو،آئین میں ترمیم کرکےبااختیار مقامی حکومتوں کا نظام وضع کیا جائے۔
وزیردفاع نےکہاکہ کراچی میں آگ لگنےکاواقعہ ہمارےنظام کی تباہی کی نشانی ہے،ملک میں عوام کو مضبوط کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے، ملک میں ایک جیسا نظامِ تعلیم اور مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لوکل گورنمنٹ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔