Jang News:
2026-06-02@22:10:55 GMT

پاکستان کے استحکام کے لیے اب فیصلے کرنا ہوں گے: خواجہ آصف

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

پاکستان کے استحکام کے لیے اب فیصلے کرنا ہوں گے: خواجہ آصف

فائل فوٹو

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے استحکام کے لیے اب فیصلے کرنا ہوں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں لوکل باڈی کے انتخابات کرائے گئے، تاہم ہم لوگ لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہیں کراتے اور اگر الیکشن شیڈول بھی آ جائے تو مختلف بہانے کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک اور نظام کی بقا کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین کے موجودہ صدر بھی ایک سیاسی عمل کے ذریعے ابھر کر سامنے آئے، جبکہ لیڈرشپ اسی طرح پیدا ہوتی ہے اور ایسے ہی عمل سے آگے بڑھتی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ کراچی میں آگ لگنے کا واقعہ ہمارے نظام کی تباہی کی نشانی ہے، ملک میں عوام کو مضبوط کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے، ملک میں ایک جیسا نظامِ تعلیم اور مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ہونا چاہیے۔

 انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ ایک ایسا مضبوط لوکل گورنمنٹ نظام قائم ہو تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نظامِ تعلیم ہونا چاہیے کہ وفاق سمیت صوبوں کو بھی نئی نسل پہچانے، یکساں نظامِ تعلیم ایک قوم بناتا ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اب ایسا نظام بننا چاہیے کہ صوبے سے تحصیل اور وارڈ کی سطح تک اختیارات منتقل ہوں۔

 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آخر میں وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ ہی آگ بجھانے کے لیے آئے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: لوکل گورنمنٹ وزیر دفاع انہوں نے نے کہا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی