پاکستانی عوام کو بااختیار بنانے کے لیے مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم ضروری، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے ملک میں ایک مضبوط اور مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم لانا ضروری ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق نہ تو کہیں مؤثر لوکل گورنمنٹ ہے، اور جہاں ہے وہاں بھی اختیارات نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اٹھائیسویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے اور اس کے مؤثر نظام کے قیام کی تجویز دی گئی تھی، اور اس پر اتفاق رائے بھی موجود تھا۔
تاہم حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لوکل گورنمنٹ
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔