شہید ضیاء الدین رضوی کی برسی کا مرکزی اجتماع، رہبر معظم کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ عظیم الشان اجتماع حالیہ دنوں اسلامی جمہوریہ ایران میں عالمِ استعمار بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں ہونے والی سازشوں اور احتجاجی مظاہروں کو ایک خودمختار اسلامی ریاست کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت اور ناپسندی کا اظہار کرتا ہے، نیز اس موقع پر ملکی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کے خلاف جھوٹے، گمراہ کن اور پروپیگنڈا پر مبنی بیانیے پر شدید تشویش اور مذمت کرتا ہے، یہ اجتماع رہبرِ معظم کی بصیرت افروز، مدبرانہ، ولولہ انگیز اور امتِ مسلمہ کو وحدت کی طرف لے جانے والی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل تائید و حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام مرکزی جامع امامیہ مسجد شہید سید ضیاء الدین رضوی گلگت میں شہید راہ حق سید ضیاء الدین رضوی اور اْن کے باوفا جانثاران شہید تنویر علی، شہید عباس علی اور شہید حسین اکبر کی 21 ویں سالانہ برسی کے سلسلے میں ایک عظیم الشان مرکزی احتجاجی و تعزیتی اجتماع منعقد ہوا۔ اس عظیم الشان اجتماع میں پورے گلگت بلتستان سے ہزاروں مومنین نے شرکت کی، جبکہ خصوصی طور پر کثیر تعداد میں علمائے کرام، سیاسی و سماجی اکابرین نے بھی شرکت کی۔ اجتماع کے آخر میں امپھری، نگرل اور بارگو کے پروگرامات میں پیش کی جانے والی قرارداوں کی تائید کے ساتھ آج کے اس مرکزی پروگرام کی وساطت سے مندرجہ ذیل قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
1۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع شہید مظلوم، داعی اتحاد بین المسلمین سفیر امن، مجاہد ملت شہید آغا سید ضیا الدین رضوی اور انکے باوفا جانثاروں سمیت سانحہ 88ء سانحہ کوہستان، چلاس، لولوسر، ہڈور سمیت دیگر تمام شہداء ملت جعفریہ گلگت بلتستان کے قاتلوں اور انکے سرپرستوں کی ابتک عدم گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ارباب اقتدار سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ ان تمام واقعات میں ملوث کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے کارندوں اور انکے سرپرستوں کو فوراً گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
2۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع شہید آغا سید ضیاء الدین رضوی کی آئینی، اصولی و قانونی تحریک اصلاح نصاب تعلیم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے وزارت تعلیم سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ سرکاری تعلیمی نصاب سے ہر قسم کا فرقہ وارانہ اور متنازعہ مواد ہٹا کر اسے تمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول بنایا جائے۔
3۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع حالیہ دنوں اسلامی جمہوریہ ایران میں عالمِ استعمار بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں ہونے والی سازشوں اور احتجاجی مظاہروں کو ایک خودمختار اسلامی ریاست کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت اور ناپسندی کا اظہار کرتا ہے، نیز اس موقع پر ملکی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کے خلاف جھوٹے، گمراہ کن اور پروپیگنڈا پر مبنی بیانیے پر شدید تشویش اور مذمت کرتا ہے، یہ اجتماع رہبرِ معظم کی بصیرت افروز، مدبرانہ، ولولہ انگیز اور امتِ مسلمہ کو وحدت کی طرف لے جانے والی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل تائید و حمایت کا اعلان کرتا ہے، ساتھ ہی عالمِ اسلام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی استعماری، غیر آئینی اور غیر قانونی مداخلتوں کے خلاف متحد ہو کر اپنی صدائے حق بلند کرے، کیونکہ یہ طاقتیں کسی بھی اسلامی ریاست یا امت کی خیر خواہ نہیں؛ یہ اجتماع واضح کرتا ہے کہ ملتِ تشیع عالمِ استعمار کی کسی بھی شکل میں مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد، خودمختاری اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے رہبرِ معظم کے اصولی مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے۔
4۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع یہ مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کی سپریم ایپلیٹ کورٹ اور چیف کورٹ میں مکتبہ تشیع سے تعلق رکھنے والے ججزز کی جو آئینی و قانونی نشستیں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں، انہیں مزید التواء کا شکار نہ بنایا جائے، کیونکہ ان آسامیوں کا خالی رہنا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کر رہا ہے؛ لہٰذا یہ اجتماع حکومتِ وقت، متعلقہ آئینی اداروں اور مجاز حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر مکتبہ تشیع سے تعلق رکھنے والے قابل، دیانتدار، تجربہ کار اور اہل اشخاص کو ان خالی آسامیوں پر تعینات کیا جائے، تاکہ عدل و انصاف کا نظام متوازن، شفاف اور بلا امتیاز انداز میں آگے بڑھتا رہے اور تمام مکاتبِ فکر کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائی جا سکے۔
5۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع چیف الیکشن کمشنر آفس کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے اعلان کو جمہوری عمل کے تسلسل کی ایک مثبت پیش رفت سمجھتے ہوئے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ اجتماع اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ حالیہ بلدیاتی وارڈز کی تقسیم میں شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور بعض وارڈز کی تشکیل تعصب اور امتیازی بنیادوں پر کی گئی ہے؛ لہٰذا یہ اجتماع پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ بلدیاتی نظام میں عوامی نمائندگی کو منصفانہ اور متوازن بنانے کے لیے گلگت شہر کے قریب ترین علاقے دنیور، چھلمس داس اور نومل کے علاقوں کو بھی باقاعدہ طور پر میونسپل کارپوریشن گلگت میں شامل کیا جائے، تاکہ تمام علاقوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں اور بلدیاتی نظام حقیقی معنوں میں عوامی امنگوں کا ترجمان بن سکے۔
6۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع حکومت کی جانب سے 100 کنال زمین اہل تشیع اور 100 کنال اہل سنت کے لیے الاٹ کرنے کے فیصلے پر سخت ناپسندی اور تشویش کا اظہار کرتا ہے، کیونکہ حکومت نے دونوں مکاتب فکر کے لیے ایسی جگہیں الاٹ کی ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں؛ اہل سنت کے لیے الاٹ کی گئی زمین اہلیان گنش کے مومنین کی شاملات دیہہ ہے، جسے وہ کسی طور کسی اور کو دینے کے لیے تیار نہیں، اور اہل تشیع کے لیے بھی زمین کی موجودہ الاٹمنٹ مناسب نہیں ہے؛ لہٰذا یہ اجتماع حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ دونوں مکاتب فکر کے لیے ایسی متفقہ، غیر متنازع اور مقامی آبادی کی مناسبت سے مناسب جگہوں کا تعین کیا جائے، تاکہ اہل سنت اور اہل تشیع بلا روک ٹوک اپنے مرحومین کی تدفین آسانی اور احترام کے ساتھ کر سکیں۔
7۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع یادگار محلہ میں قائدِ ملت جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی کے قافلے پر ہونے والی فائرنگ کے المناک واقعے، جس کے نتیجے میں دو نوجوان شہید ہوئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے، اور اس کے تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک کسی بھی مجرم عدم گرفتاری پر یہ اجتماع حکومت، سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ محکموں سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ جس طرح حالیہ سی پی او واقعے کے کیس میں فوری کارروائی کی گئی اور پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا گیا، بالکل اسی طرح یادگار محلہ کے واقعے کی مکمل، شفاف اور اثر انگیز ازسرنو تحقیقات کی جائیں، اصل مجرموں کو سامنے لایا جائے، اور انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنایا جائے، تاکہ حکومت کا امتیازی سلوک اور تاخیر کی پالیسی ختم ہو اور عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے-
8۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع علاقہ میں ثقافت کے فروغ کے نام پہ حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کی سرپرستی میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت کی تقریبات سے نوجوان نسل کو اسلامی اقدار سے دور کرنے ان کی غیرت و حمیت کو ختم کر کے مغربی کلچر کو فروغ دینے کی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے ایسے تمام اقدامات پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتاہے۔ نیز گلگت بلتستان میں افیون، چرس، شراب، ہیروئن اور آئس جیسی مہلک منشیات کی کھلے عام دستیابی اور حکومت کی جانب سے پراسرار خاموشی کو اس خطے کی نوجوان نسل کو تباہ کرنے کی سازش سمجھتے ہوئے منشیات فروشوں کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
9۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع گلگت بلتستان کے وسائل اور زمنیوں کی بندر بانٹ اور لیز کے نام پہ غیر مقامی افراد اور کمپنیوں کو نوازنے کے عمل کو گلگت بلتستان کے عوام کے خلاف گہری سازش قرار دیتا ہے اور غیر مقامی افراد کو جاری کئے جانے والے لیز لائسنس کو منسوخ کرکے ان پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ نیز یہ اجتماع گلگت بلتستان کے تمام قدرتی وسائل جنگل، پہاڑ اور دریا عوام کی بلاشرکت غیر ے ملکیت قرار دیتے ہوئے متنبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی اور متعلقہ سرکاری ادارے ایسی قانون سازی اور عوام دشمن پالیسیاں بنانے سے گریز کریں جن کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوامی ملکیتی حقوق متاثر ہوتے ہوں۔ یہ اجتماع گلگت بلتستان کے تمام قدرتی وسائل کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔
10۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع اس امر پر شدید تشویش اور سخت احتجاج کا اظہار کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آئے روز ملتِ تشیع کے مقدسات کی توہین اور ملتِ تشیع کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال دلانے والی زبان استعمال کی جا رہی ہے، جن کے خلاف مختلف تھانوں میں باقاعدہ درخواستیں اور شکایات جمع کروائی جا چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود اکثر درخواستوں پر تاحال کسی مؤثر کارروائی کا عمل میں نہ آنا نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے؛ لہٰذا یہ اجتماع حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ ان تمام عناصر کے خلاف فوری اور عملی کارروائی کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور قانون کے مطابق انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ ریاستی رِٹ قائم رہے اور آئندہ کوئی بھی فرد یا گروہ اس طرح کی ناپاک اور اشتعال انگیز حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
11۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع ہنزل 20 میگاواٹ پاور پروجیکٹ اور نلتر 16 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کے طویل التواء پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے، کیونکہ موجودہ سخت سردیوں کے موسم میں گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی نہ صرف انتہائی کم ہے بلکہ بعض علاقوں میں بالکل بھی دستیاب نہیں؛ یہ دونوں پاور پروجیکٹس عوام کی سہولت اور علاقے کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ لہٰذا یہ اجتماع حکومت، متعلقہ محکموں اور منصوبہ ساز اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ ہنزل اور نلتر پاور پروجیکٹ پر فوری اور تیز رفتار کام شروع کیا جائے، ان منصوبوں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ عوام کو شدید لوڈشیڈنگ اور توانائی کی کمی کے عذاب سے نجات مل سکے اور علاقے میں توانائی کی ضروریات بروقت اور مؤثر انداز میں پوری ہوں سکے۔
12۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع گلگت بلتستان میں حکومتی اداروں کی متعصبانہ پالیسیوں، اعلی سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر میرٹ کے خلاف متعصبانہ پالیسوں اور میرٹ کے استحصال پر پرزور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ تمام فیصلے بلاتفریق رنگ و نسل مذہب میرٹ کے مطابق تعیناتیاں کی جائیں نیز علاقہ بھر میں تمام ترقیاتی سکیمیں جہاں ضرورت ہے کی بنیاد پر تعمیر کی جائیں، لسانی اور مذہبی بناد پر منظور کی جانے والی سکیمیوں کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
13۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ ملتِ جعفریہ نے لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی اس کے منظور ہونے سے قبل ہی کر دی تھی، مگر افسوس کہ اس ایکٹ کے پاس ہونے کے باوجود گلگت بلتستان میں عوامی ملکیتی زمینوں پر قبضوں کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں مزید تیزی آ چکی ہے۔ بالخصوص گلگت ریجن اور بلتستان ریجن میں ان دنوں عوامی ملکیتی زمینوں پر غیر قانونی قبضے تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں، جو عوام کے بنیادی حقوق پر کھلا حملہ ہیں۔ یہ اجتماع حکومتِ گلگت بلتستان کو سختی سے متنبہ کرتا ہے کہ وہ ایسے تمام اقدامات سے فوری طور پر باز رہے، عوامی ملکیتی زمینوں پر قبضے کی روش کو بند کرے، ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائے اور عوام کے جائز حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنائے، بصورت دیگر عوامی مزاحمت کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
14۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع قائدِ ملتِ جعفریہ گلگت بلتستان و سفیرِ امن علامہ آقائے سید راحت حسین الحسینی کی دوراندیش، ولولہ انگیز اور مخلصانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے اور اس امر کا بھرپور اعتراف کرتا ہے کہ آغا محترم نے ہمیشہ اتحادِ امت، بین المسالک ہم آہنگی، امن و بھائی چارے، اور معاشرتی استحکام کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ اجتماع اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ آغا محترم کی رہنمائی، دیگر جید علماء کرام کی دینی بصیرت اور باصلاحیت سیاسی قائدین کی مشاورت کے ساتھ علاقے میں تعمیر و ترقی، پائیدار امن و امان اور عادلانہ و منصفانہ نظم و نسق کے قیام کے لیے ہر قسم کی اخلاقی، سماجی اور عملی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ یہ اجتماع واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ قائد ملت جعفریہ کی قیادت میں گلگت بلتستان کو امن، انصاف اور ترقی کا گہوارہ بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے پ رزور مطالبہ کرتا ہے کہ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع لہ ذا یہ اجتماع حکومت اجتماع گلگت بلتستان گلگت بلتستان میں کا اظہار کرتا ہے گلگت بلتستان کے ضیاء الدین رضوی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار اعلان کرتا ہے پر شدید تشویش بنایا جائے کی جانب سے انگیز اور جانے والی کرتے ہوئے کیا جائے کے خلاف کے ساتھ اور امت اور غیر عوام کے ہے اور اور اس کی گئی کے لیے کیا جا
پڑھیں:
نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
راو دلشاد: محمد نواز شریف گلگت بلتستان کے دورے کے لیے روانہ ہو گئے، جہاں وہ پارٹی رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور کے اولڈ ایئرپورٹ سے گلگت بلتستان روانہ ہوئے۔ اس موقع پر خواجہ محمد آصف اور رانا ثناء اللہ خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
دورے کے دوران نواز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈرز اور مقامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور انتخابی حکمت عملی پر مشاورت کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سربراہ گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مختلف عوامی جلسوں سے بھی خطاب کریں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات