یہ محض ایک حادثہ ہے یا بے حسی‘؟ شوبز ستارے بھی سانحہ گل پلازہ پر بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر شوبز ستارے بھی خاموش نہ رہے۔سانحہ گل پلازہ میں اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے اور متعدد لاپتا ہیں۔اس سانحہ پر جہاں پوری قوم غم زدہ ہے وہیں شوبز ستاروں نے بھی اپنے سوشل اکاؤنٹس پر دکھ کا اظہار کیا ہے.اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی اسٹوری میں سانحہ گل پلازہ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس سانحے کی ویڈیوز دیکھ کر غصہ آرہا ہے، بے یارومددگار بھی محسوس کررہی ہوں، یہ محض ایک حادثہ ہے یا بے حسی؟اداکارہ نے زخمیوں کی شفایابی اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے صبر کی دعا بھی کی۔اداکارہ و ماڈل نادیہ حسین نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس ناقابل یقین ہولناک سانحے نے تمام کراچی والوں کو مایوسی، غم اور مکمل صدمے میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آگ کو بروقت نہ بجھایا جاسکا جس سے اتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے اور کروڑوں کا نقصان ہوا، فائر فائٹرز کی گاڑیاں کہاں تھیں؟ آگ 24 گھنٹے سے زیادہ کیوں جلتی رہی؟اداکارہ سحر خان نے بھی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے دکھ کا اظہار کیا، انہوں نے سندھ حکومت اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے فوری مداخلت اور متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔اداکارہ نے اپنے کام کی انجام دہی کے دوران مرنے والے ریسکیو 1122 کے اہلکار کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔اداکارہ منال خان نے سانحہ پر دکھ کا اظہار کیا جب کہ اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک جذباتی پوسٹ کرتے ہوئے سانحے کے حوالے سے غفلت اور حفاظتی اقدامات پر سوال اٹھایا اور کہا کہ 'گل پلازہ میں جو ہوا وہ نہایت دل دہلا دینے والا ہے، جس طرح قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔'
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔