ہمارے دور میں جتنی وفاقی سکیمیں آئیں، تاریخ میں مثال نہیں ملتی، کاظم میثم
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سابق اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ان سکیموں میں پچاس ارب کا غذر روڈ، بارہ ارب کا شاہراہ نگر، چھ ارب داریل تانگیر ایکسپریس وے، بیس ارب کا اے وی آر، سترہ ارب کا شغرتھنگ پاور پروجیکٹ، تین ارب کا ڈھائی سو بیڈ ہسپتال، چھ ارب کا شغرتھنگ روڈ اور بیس ارب کا غواڑی پاور پروجیکٹ جو اب تک متنازعہ کر دیا ہے، یہ سب شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و سیکرٹری سیاسیات ایم ڈبلیو ایم جی بی کاظم میثم نے کہا ہے کہ حلقہ دو میں الیکشن لڑنے والے تمام امیدواران ہمارے لیے قابل احترام ہے۔ کسی بھی نمائندہ کی ذاتیات پر حملہ کر کے الیکشن کمپئین چلانے کا ہم ہرگز قائل نہیں۔ ہم نے کمپئین پرفارمنس، اصول، منشور اور عوامی خدمت کی بنیاد پر کرنی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاظم میثم کا کہنا تھا کہ ہم نے اڑھائی سال حکومت میں رہ کر اور اڑھائی سال اپوزیشن میں رہ کر حلقے کی خدمت کی کوشش کی ہے۔ حکومتی ایام میں جتنی ترقیاتی سکیمیں پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کی مد میں آئی ہیں یقینا وہ ہماری اتحادی حکومت کے بھرپور تعاون سے ہی ممکن ہوا، رجیم چینج کے بعد اڑھائی سالوں میں حلقہ دو سمیت بلتستان ریجن میں ایک بھی پی ایس ڈی پی کی سکیمیں منظور ہونے نہ دی گئیں، یقینا اس کا ذمہ دار وہ مخلوط حکومت تھی جو حاجی گلبر کی قیادت میں بنی۔ صرف یہی نہیں بلکہ غواڑی پاور پروجیکٹ جیسا منصوبہ بھی اس مخلوط حکومت کی کارستانی ہے۔
کاظم میثم نے کہا کہ عوام کو یہ واضح ہونا چاہیے گلگت بلتستان میں رجیم چینج کے بعد پیجو روڈ، سکردو سیورج پروجیکٹ، کواردو قمراہ برج، ماسٹر پلان جیسے اہم منصوبے بھی دوبارہ شامل نہیں ہو سکے۔ مخلوط حکومت کے اڑھائی سالوں میں دو ارب کا ہنزہ میں واٹر سپلائی سکیم اپرو ہوا ہے اسکے علاوہ کوئی بھی پی ایس ڈی پی پروجیکٹ منظور نہیں ہو سکا۔ جبکہ یہ ببانگ دہل ہم کہنا چاہتے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار جتنی پی ایس ڈی پی کی سکیمیں تحریک انصاف اور ہماری اتحادی حکومت میں آئیں اسکی نظیر جی بی کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ان میں پچاس ارب کا غذر روڈ، بارہ ارب کا شاہراہ نگر، چھ ارب داریل تانگیر ایکسپریس وے، بیس ارب کا اے وی آر، سترہ ارب کا شغرتھنگ پاور پروجیکٹ، تین ارب کا ڈھائی سو بیڈ ہسپتال، چھ ارب کا شغرتھنگ روڈ اور بیس ارب کا غواڑی پاور پروجیکٹ جو اب تک متنازعہ کر دیا ہے، یہ سب شامل ہیں۔ الحمد اللہ ان میں تین پی ایس ڈی پی کے پروجیکٹس ہمارے حلقے میں موجود ہیں۔ شغرتھنگ روڈ وہ منصوبہ تھا جو سابق وزیر اعلی خالد خورشید اور میرے منشور کا مشترکہ حصہ تھا۔ ان سکیموں پہ کوئی سابق حکومت کو سیاسی مجبوری کی بنیاد پر کریڈیٹ نہیں دینا چاہتے ہیں تو وہ انکا ظرف ہے لیکن ریکارڈ سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ کس دور میں کس کی حکومت میں یہ منصوبے شامل ہوئے، ان کے لیے کس نے تین سو پچھتر ارب کس نے رکھے، اور اب ان پہ کام جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کاچو امتیاز کو الیکشن کمپئن جس انداز میں کرنا ہے ان کا حق ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دیگر نمائندوں کی نسبت ان سے ہمارا تعلق محترمانہ ہونا چاہیے کیونکہ ہماری ٹکٹ پر ہی فتحیاب ہو کر وہ اسمبلی میں پہنچے تھے۔ انہیں ہم نے سب سے پڑھے لکھے ہونے کی بنیاد پر سپورٹ کیا تھا۔ بعد میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر سیاسی راہیں جدا ہوئی تھیں۔ جب وہ کرسی پر تھے ہماری مخالفت بھی اخلاقی و اصولی تھی۔اب مناسب اور خوشگوار سیاسی رقابت کے قائل ہیں۔ ان سمیت تمام دیگر امیدواروں کے حوالے سے میں کارکنان، ووٹرز اور سپورٹرز سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ منفی تنقید نہ کریں، احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، سیاست میں اتنی گنجائش رکھ لیں کہ کسی بھی مرحلے پر قومی ایشوز پر ساتھ چلنا پڑے تو مشکل نہ بنے اور قومی ایشوز متاثر نہ ہوں۔ کتنے ایسے افراد ہیں جو کبھی ہمارے سخت ناقد تھے وہ ہمارے کارواں کا حصہ بنے۔ ہم نے ہر تنقید، ہر الزام ہر حملے کا جواب احترام اور اصول کی بنیاد پر دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا جواب اڑھائی سالہ حکومت میں ہماری کارکردگی، پروجیکٹس اور پرفارمنس ہے جبکہ اڑھائی سالہ ہمارا اپوزیشن ہے جس میں ہم نے بے خوف و خطر ہوکر پورے گلگت بلتستان کی نمائندگی کی۔ اسی طرح قومی معاملات پر ہماری فعالیت اور قیادت کی عوامی خدمت کی پوری دنیا معترف ہیں جنہوں نے عوام کی ترجمانی کرکے دکھائی۔ جنہوں نے عوام کے حقوق اور وسائل کا تحفظ کر کے دکھائی، جنہوں نے عوام کو حق بات کرنے کا سلیقہ اور ڈھب سکھایا، جو پورے عوام کے لیے معتبر ہے۔ لہذا جماعت، قیادت، فعالیت، پرپارمنس، منشور اور اصولوں کو لیکر ہم نے سیاسی جدوجہد تیز کرنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ارب کا شغرتھنگ پاور پروجیکٹ پی ایس ڈی پی کی بنیاد پر بیس ارب کا کاظم میثم حکومت میں چھ ارب نے کہا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔
یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔
مزید :