سابق اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ان سکیموں میں پچاس ارب کا غذر روڈ، بارہ ارب کا شاہراہ نگر، چھ ارب داریل تانگیر ایکسپریس وے، بیس ارب کا اے وی آر، سترہ ارب کا شغرتھنگ پاور پروجیکٹ، تین ارب کا ڈھائی سو بیڈ ہسپتال، چھ ارب کا شغرتھنگ روڈ اور بیس ارب کا غواڑی پاور پروجیکٹ جو اب تک متنازعہ کر دیا ہے، یہ سب شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و سیکرٹری سیاسیات ایم ڈبلیو ایم جی بی کاظم میثم نے کہا ہے کہ حلقہ دو میں الیکشن لڑنے والے تمام امیدواران ہمارے لیے قابل احترام ہے۔ کسی بھی نمائندہ کی ذاتیات پر حملہ کر کے الیکشن کمپئین چلانے کا ہم ہرگز قائل نہیں۔ ہم نے کمپئین پرفارمنس، اصول، منشور اور عوامی خدمت کی بنیاد پر کرنی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاظم میثم کا کہنا تھا کہ ہم نے اڑھائی سال حکومت میں رہ کر اور اڑھائی سال اپوزیشن میں رہ کر حلقے کی خدمت کی کوشش کی ہے۔ حکومتی ایام میں جتنی ترقیاتی سکیمیں پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کی مد میں آئی ہیں یقینا وہ ہماری اتحادی حکومت کے بھرپور تعاون سے ہی ممکن ہوا، رجیم چینج کے بعد اڑھائی سالوں میں حلقہ دو سمیت بلتستان ریجن میں ایک بھی پی ایس ڈی پی کی سکیمیں منظور ہونے نہ دی گئیں، یقینا اس کا ذمہ دار وہ مخلوط حکومت تھی جو حاجی گلبر کی قیادت میں بنی۔ صرف یہی نہیں بلکہ غواڑی پاور پروجیکٹ جیسا منصوبہ بھی اس مخلوط حکومت کی کارستانی ہے۔

کاظم میثم نے کہا کہ عوام کو یہ واضح ہونا چاہیے گلگت بلتستان میں رجیم چینج کے بعد پیجو روڈ، سکردو سیورج پروجیکٹ، کواردو قمراہ برج، ماسٹر پلان جیسے اہم منصوبے بھی دوبارہ شامل نہیں ہو سکے۔ مخلوط حکومت کے اڑھائی سالوں میں دو ارب کا ہنزہ میں واٹر سپلائی سکیم اپرو ہوا ہے اسکے علاوہ کوئی بھی پی ایس ڈی پی پروجیکٹ منظور نہیں ہو سکا۔ جبکہ یہ ببانگ دہل ہم کہنا چاہتے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار جتنی پی ایس ڈی پی کی سکیمیں تحریک انصاف اور ہماری اتحادی حکومت میں آئیں اسکی نظیر جی بی کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ان میں پچاس ارب کا غذر روڈ، بارہ ارب کا شاہراہ نگر، چھ ارب داریل تانگیر ایکسپریس وے، بیس ارب کا اے وی آر، سترہ ارب کا شغرتھنگ پاور پروجیکٹ، تین ارب کا ڈھائی سو بیڈ ہسپتال، چھ ارب کا شغرتھنگ روڈ اور بیس ارب کا غواڑی پاور پروجیکٹ جو اب تک متنازعہ کر دیا ہے، یہ سب شامل ہیں۔ الحمد اللہ ان میں تین پی ایس ڈی پی کے پروجیکٹس ہمارے حلقے میں موجود ہیں۔ شغرتھنگ روڈ وہ منصوبہ تھا جو سابق وزیر اعلی خالد خورشید اور میرے منشور کا مشترکہ حصہ تھا۔ ان سکیموں پہ کوئی سابق حکومت کو سیاسی مجبوری کی بنیاد پر کریڈیٹ نہیں دینا چاہتے ہیں تو وہ انکا ظرف ہے لیکن ریکارڈ سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کس دور میں کس کی حکومت میں یہ منصوبے شامل ہوئے، ان کے لیے کس نے تین سو پچھتر ارب کس نے رکھے، اور اب ان پہ کام جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کاچو امتیاز کو الیکشن کمپئن جس انداز میں کرنا ہے ان کا حق ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دیگر نمائندوں کی نسبت ان سے ہمارا تعلق محترمانہ ہونا چاہیے کیونکہ ہماری ٹکٹ پر ہی فتحیاب ہو کر وہ اسمبلی میں پہنچے تھے۔ انہیں ہم نے سب سے پڑھے لکھے ہونے کی بنیاد پر سپورٹ کیا تھا۔ بعد میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر سیاسی راہیں جدا ہوئی تھیں۔ جب وہ کرسی پر تھے ہماری مخالفت بھی اخلاقی و اصولی تھی۔اب مناسب اور خوشگوار سیاسی رقابت کے قائل ہیں۔ ان سمیت تمام دیگر امیدواروں کے حوالے سے میں کارکنان، ووٹرز اور سپورٹرز سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ منفی تنقید نہ کریں، احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، سیاست میں اتنی گنجائش رکھ لیں کہ کسی بھی مرحلے پر قومی ایشوز پر ساتھ چلنا پڑے تو مشکل نہ بنے اور قومی ایشوز متاثر نہ ہوں۔ کتنے ایسے افراد ہیں جو کبھی ہمارے سخت ناقد تھے وہ ہمارے کارواں کا حصہ بنے۔ ہم نے ہر تنقید، ہر الزام ہر حملے کا جواب احترام اور اصول کی بنیاد پر دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا جواب اڑھائی سالہ حکومت میں ہماری کارکردگی، پروجیکٹس اور پرفارمنس ہے جبکہ اڑھائی سالہ ہمارا اپوزیشن ہے جس میں ہم نے بے خوف و خطر ہوکر پورے گلگت بلتستان کی نمائندگی کی۔ اسی طرح قومی معاملات پر ہماری فعالیت اور قیادت کی عوامی خدمت کی پوری دنیا معترف ہیں جنہوں نے عوام کی ترجمانی کرکے دکھائی۔ جنہوں نے عوام کے حقوق اور وسائل کا تحفظ کر کے دکھائی، جنہوں نے عوام کو حق بات کرنے کا سلیقہ اور ڈھب سکھایا، جو پورے عوام کے لیے معتبر ہے۔ لہذا جماعت، قیادت، فعالیت، پرپارمنس، منشور اور اصولوں کو لیکر ہم  نے سیاسی جدوجہد تیز کرنی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ارب کا شغرتھنگ پاور پروجیکٹ پی ایس ڈی پی کی بنیاد پر بیس ارب کا کاظم میثم حکومت میں چھ ارب نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف