تھریڈز موبائل ایپ صارفین کی تعداد ایکس سے بڑھ گئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میٹا کی ایپ تھریڈز نے ایلون مسک کے زیرملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کو موبائل ڈیوائسز میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں تھریڈز کو روزانہ موبائل فونز پر استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 14 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایکس کو روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً ساڑھے 12 کروڑ رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تھریڈز کے روزانہ صارفین کی تعداد گزشتہ ایک سال کے دوران مستقل انداز سے بڑھ رہی ہے جبکہ ایکس کے صارفین میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے۔
گزشتہ سال موسم خزاں میں دونوں پلیٹ فارمز تقریباً برابر کی پوزیشن پر تھے، لیکن اب تھریڈز نے واضح برتری حاصل کر لی ہے، یہ کامیابی میٹا کی جانب سے فیس بک اور انسٹا گرام صارفین کو تھریڈز کی طرف راغب کرنے کی حکمت عملی کا بھی نتیجہ ہے۔
اگرچہ تھریڈز نے آئی او ایس اور اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر برتری حاصل کر لی ہے، لیکن ویب ورژن میں ایکس اب بھی سبقت رکھتا ہے۔ تھریڈز کے ویب صارفین کی تعداد جنوری میں تقریباً 85 لاکھ رہی، جبکہ ایکس کے ویب ورژن پر روزانہ ساڑھے 14 کروڑ افراد وزٹ کر رہے ہیں۔
تھریڈز کی موبائل پر یہ بڑھتی ہوئی مقبولیت سوشل میڈیا کے میدان میں پلیٹ فارم کی صارفین کی ترجیحات میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل قریب میں سوشل میڈیا مارکیٹ میں مزید مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، خاص طور پر ایسے پلیٹ فارمز کے درمیان جو موبائل اور ویب دونوں پر صارفین کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صارفین کی تعداد
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔